خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 228
خطبات طاہر جلد اول 228 خطبه جمعه ۲۲/اکتوبر ۱۹۸۲ء پارک ہیں ، تو ساری زندگی یہیں پڑی ہے۔ہم تو خواہ مخواہ جس کو پنجابی میں کہتے ہیں ” نخل خراب ہی ہوندے آئے اسی۔یعنی عمر ضائع اور خراب کر دی اپنی۔تو وہ یہ تاثر لے لیتے ہیں۔کیوں لیتے ہیں؟ اس لیے لیتے ہیں کہ اس کے مقابل پر ان کی ذات میں کوئی اعلیٰ اقدار نہیں ہوتیں جن سے وہ راضی ہوں۔خالی برتن لے کے جاتے ہیں ، اس لیے وہ اس گندگی سے بھر جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان سب اقتدار کے بدلے تم بہتر اقدار اپنے اندر پیدا کرو اور مغفرت اور رضوان میں سبقت لے جانے کی عادت ڈالو۔جب تمہاری توجہ اپنے رب کی طرف مبذول ہو جا ئیگی اور اس کی رضا کی طرف مبذول ہو جائے گی تو یہ چیزیں لذت کھو دیں گی۔پھر تم ان کو کھو کھلے برتنوں کی طرح دیکھو گے۔تم نظر تو ڈالو گے ان پر لیکن رحم کی نظر ڈالو گے رشک اور حسد کی نظر نہیں ڈالو گے۔تم اپنے آپ کو بہتر انسان سمجھو گے۔چنانچہ دونوں نظر سے جائزہ لینے والے وہاں میں نے دیکھے۔بعض عدم تربیت یافتہ نو جوان احمدی بھی ایسے تھے جو یورپ سے مغلوب ہو جاتے تھے اور بعض ایسے سنجیدہ قسم کے لوگ تھے جن کو عبادت کی لذتیں حاصل تھیں ، جن کو ذکر الہی کا مزہ حاصل تھا ، جو جانتے تھے کہ مذہبی اقدار ہی باقی رہنے والی اقدار ہیں، وہ نہایت حسرت کے ساتھ ان چیزوں کو دیکھتے تھے اور رحم کے ساتھ ان چیزوں کو دیکھتے تھے کہ یہ تو میں ذلیل اور تباہ ہو رہی ہیں۔باوجود اپنی عظمتوں کے ان کو کچھ بھی نہیں مل رہا۔چنانچہ بکثرت مجھے ایسے احمدی خاندان ملے کہ ان کو وہاں دنیا کمانے کے بہترین ذرائع میسر ہیں۔لیکن ایسا دل اچاٹ ہو گیا ہے ان چیزوں سے کہ وہ مجھ سے اجازتیں لیتے تھے کہ باوجود اس کے کہ بظاہر پاکستان میں ہمارا کوئی مستقبل نہیں ہے ، ہمیں اجازت دیں ہم اس ملک کو دفع کر کے وہاں واپس پہنچ جائیں۔ایسی مائیں میرے پاس آئیں جو زار و قطار رو رہی تھیں۔اس قدر درد تھا ان کے دل میں کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔بات نہیں کی جاتی تھی۔ان کا درد مجھے بھی مغلوب کر رہا تھا۔آخر پر جب پوچھا کہ آپ کو کیا غم لگ گیا ہے۔انہوں نے کہا غم کیا لگ گیا ہے۔میرے بچے جو بڑے ہوئے ہیں ان میں سے بعض مغربی زندگی سے متاثر ہو کر سمجھتے ہیں کہ زندگی کی لذتیں یہی ہیں اور میں جانتی ہوں کہ یہ ان کی تباہی اور ہلاکت ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں۔کچھ بچے ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے احساس اور در درکھتے ہیں۔وہ مجھ پر زور دیتے ہیں کہ اس جگہ کو چھوڑ کر واپس چلے جائیں۔ہمیں