خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 226
خطبات طاہر جلد اول 226 خطبه جمعه ۲۲ را کتوبر ۱۹۸۲ء نتیجے میں جب وہ ایسی زینت حاصل کرتے ہیں تو ان میں بھی رشک کے جذبے ہیں ۔ وہ بھی چاہتے ہیں کہ ایک دوسرے سے بڑھیں ۔ لیکن وہ جو سبقت ہے اسکا نقشہ یوں کھینچتا ہے۔ سَابِقُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ (الحديد : ٢٣) ان کے اندر بھی مسابقت کی روح پیدا ہوتی ہے ، وہ بھی چاہتے ہیں کہ ایک دوسرے پر سبقت لے جائیں لیکن انکی سبقت کا رخ بدل جاتا ہے۔ وہ اموال اور اولاد میں سبقت کی بجائے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کے حصول میں سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں اور رضائے باری تعالیٰ میں سبقت کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق اللہ فرماتا ہے ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ ذُوا الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ایک ہی قسم کی زندگی میں مبتلا ہونے والے دو قسم کے لوگ دکھائے گئے ایک وہ جو دنیا کو اپنا مدعا اور شعار بنا لیتے ہیں ۔ ایک وہ جو دنیا میں رہتے ہوئے ، بظاہر اس قسم کی زندگی بسر کرتے ہوئے اللہ کو اپنے رب کو اپنا مدعا اور مطلوب بنا لیتے ہیں۔ فرماتا ہے ان کی زندگی نا کام نہیں ہوتی ۔ نہ اس دنیا میں ان کو عذاب نصیب ہوتا ہے نہ اُس دنیا میں ان کو عذاب ملتا ہے۔ اس دنیا میں بھی وہ اللہ تعالیٰ سے راضی رہتے ہیں اور اُس دنیا میں بھی وہ اللہ سے راضی رہیں گے۔ اس دنیا میں بھی اللہ کی مغفرت کے نمونے دیکھتے رہتے ہیں اور اُس دنیا میں بھی اللہ کی مغفرت کے نمونے دیکھیں گے۔ پس یہ وہ پاکیزہ نقشہ ہے اور موازنہ ہے چند الفاظ میں ، جس میں ساری انسانی زندگی کا خلاصہ بیان کر دیا گیا ہے۔ جماعت احمدیہ کو چاہئے کہ وہ خصوصیت کے ساتھ ان تمام چیزوں میں یہ پیش نظر رکھے کہ نہ لعب غالب آئے ، نہ کہو غالب آئے ، نہ زینت غالب آئے ، نہ تفاخر غالب آئے ، نہ تکاثر غالب آئے ۔ یہ ساری وہ چیزیں ہیں کہ اگر وہ دنیا کے لحاظ سے قوموں پر غالب آجائیں تو قو میں تباہ ہو جایا کرتی ہیں ۔ بلکہ ان سارے جذبات کو مذہبی اقدار میں تبدیل کریں اور مذہبی اقدار کی پیروی کی طرف اپنی توجہات کو مبذول کر دیں۔ لذتوں کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ یہ وعدہ فرما رہا ہے کہ تمہیں کم نہیں حاصل ہوں گی۔ مثلاً لہو ہے