خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 220
خطبات طاہر جلد اول 220 خطبه جمعه ۲۲/اکتوبر ۱۹۸۲ء اعلیٰ مقاصد سے ہٹا دیتی ہیں، اس کی توجہ پھیر دیتی ہیں اور معاشرے کی اکثر برائیوں کی بنیاد بن جاتی ہیں یہ چیزیں۔چنانچہ کھیل کو داگر چہ ضروری ہے زندگی کیلئے ، سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کھیل کا ذکر فرمایا صحت کے لیے ورزش کرنا یا کھیلنا، یہ ساری چیزیں ضروری ہیں لیکن جب ان کی طرف زیادہ توجہ ہو جائے تو سنجید گیاں مٹ جاتی ہیں اور کام کر نیوالی عظیم قو میں بھی بعض دفعہ کھیلوں کی طرف زیادہ راغب ہو کر اپنے مقاصد سے ہٹ جاتی ہیں۔اب کھیلوں کے اندر صرف وہ کھیلیں نہیں ہیں جن کو ہم کھیلیں سمجھ رہے ہیں مثلا گلی ڈنڈا یا کبڈی یا فٹ بال یا والی بال۔ایسی ایسی کھیلیں دنیا ایجاد کر چکی ہے اور مفہوم اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ تفریحات کے لفظ کے اندر سیر وسیاحت بھی آجاتی ہے،Skating بھی آجاتی ہے، بڑے پہاڑوں پر چڑھنا۔یہ ساری چیزیں شامل ہو جاتی ہیں۔اب یورپ کے لئے کھیل کی طرف زیادہ توجہ ایک مصیبت بن رہی ہے ، بلکہ ساری مغربی دنیا کے لئے۔پہلے ساڑھے چھ دن کام کیا کرتے تھے۔پھر چھ دن ہوا۔اب پانچ دن کام رہ گیا ہے۔اور پانچویں دن میں سے بھی آدھا دن وہ نسبتاً چھٹی کا گزار لیتے ہیں۔اس کے علاوہ پھر چھٹیاں لیتے ہیں اور بہت بڑا روپیہ کھیلوں پر خرچ ہو رہا ہے اور سیر و تفریح پر ضائع ہو رہا ہے۔اتنا زیادہ کہ اس میں صرف صحت کے تقاضے شامل نہیں ہیں بلکہ بات اس سے آگے بڑھ جاتی ہے اور اور سیر و تفریح یعنی لعب ، لہو میں داخل ہو جاتی ہے اور لہو لعب میں اور ایک جگہ جا کر دونوں ایک ہی چیز کے دو نام بن جاتے ہیں۔چنانچہ آجکل جو کھیل کا تصور ہے اس میں بے حیائی اور بدمعاشی کا تصور بھی داخل ہو گیا ہے۔جو سب سے گندا مزاج اور بدمعاش ہو اس کو Play Boy کہتے ہیں۔جس کے اندر حیا کا کوئی تصور نہ پایا جائے اس کا اصطلاحی نام اب مغرب میں Play Boy بن گیا ہے۔کھیلنے والا۔اور جتنی بھی ایڈوانسڈ (Advanced) قسم کی ، جدید قسم کی کھیلیں ہیں ان کے اندر بد معاشی اور بے حیائی اس طرح رچ گئی ہے کہ بعض دفعہ ایک کو دوسرے سے الگ کرنا ممکن نہیں رہتا۔اور اس کے نتیجے میں وہ زندگی کی اعلیٰ اقدار سے غافل ہو جاتے ہیں۔انسانی ہمدردی سے غافل ہو جاتے ہیں۔اپنے مقاصد سے غافل ہو جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنے سے غافل ہو جاتے۔چنانچہ کھیل کا رجحان جہاں بھی حد سے تجاوز کرتا ہے ،نفسانی خواہشات کی پیروی کا رجحان بھی ساتھ ہی بڑھتا ہے۔وہاں مذہبی اقدار کم ہوتی چلی جاتی ہیں۔اپنے معاشرے میں بھی آپ دیکھ