خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 219
خطبات طاہر جلد اول 219 خطبه جمعه ۲۲/اکتوبر ۱۹۸۲ء وَالْاَوْلَادِ اموال میں تو تکاثر ہے ، اولاد میں تکاثر کیسے ہو گیا ؟ اصل بات یہ ہے کہ انسانی زندگی جوں جوں ترقی کر رہی ہے اس کی اصطلاحیں بدلتی جارہی ہیں۔جہاں فیملی یونٹ ٹوٹ رہے ہیں یعنی خاندانی تصورات مٹ رہے ہیں ، وہاں قومی تصورات ان کی جگہ لے رہے ہیں اور تكاثر في الْأَمْوَالِ وَالْاَولاد کا یہاں یہ معنی ہو جائے گا کہ تو میں اپنی عددی برتری پر فخر کرتی ہیں اور ایک دوسرے پر عددی قوت کو بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں اور چاہتی ہیں کہ انسانی قوت کے لحاظ سے وہ دوسروں پر سبقت لے جائیں۔چنانچہ یہ امر واقعہ ہے کہ بظاہر اس وقت ہر طرف فیملی پلانگ کا حکم ہو رہا ہے حکومتوں کی طرف سے لیکن قوموں کو گہری فکر اس بات کی لاحق ہو رہی ہے کہ ہم عددی لحاظ سے کسی سے پیچھے نہ رہ جائیں۔روس کو یہ دھڑکا لگا ہوا ہے کہ چین عددی قوت کے لحاظ سے ہم سے آگے نکل گیا ہے۔امریکہ کو یہ دھڑکا رہتا ہے کہ روس اور چین عددی قوت کے لحاظ سے ہم سے آگے نکل رہے ہیں اور باوجود اس کے کہ اقتصادی لحاظ سے ان کو فیملی کا چھوٹا یونٹ زیادہ مفید معلوم ہوتا ہے لیکن قومی نقطۂ نگاہ سے وہ اموال اور اولاد، دونوں کی کثرت کی خواہش رکھ رہے ہیں۔چنانچہ روس کے متعلق جو تازہ معلومات ہیں ، جو اعدادوشمار یورپ میں چھپ رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جو سفید رشیا ہے اسکو بڑی شدید فکر لاحق ہوگئی ہے کہ وہ رشیا جو سفید فام نہیں اور جس کی اکثریت مسلمانوں کی ہے اس کی تعدا د زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔اگر وہ اور زیادہ بڑھ گئی تو ہوسکتا ہے کہ وہ ڈیموکریٹک قوانین کے تابع یورپین رشیا پر بھی قبضہ کرلے اور اس بارے میں وہ بہت فکر مند ہے اور اس بارے میں تجویز میں سوچی جارہی ہیں کہ نان وائٹ رشیا ( غیر سفید فام روس) کے غلبے کو کس طرح روکا جا سکے۔تو تَكَاثُرُ فِي الْأَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ میں ، جب اصطلاحیں بدلتی ہیں تو معنی بھی ساتھ بدل جاتے ہیں۔زمانہ بدلتا ہے تو اور رنگ پیدا ہو جاتا ہے مراد یہ ہے کہ ایسا زمانہ بھی آسکتا ہے کہ جب اولا د سٹیٹ کی اولاد مراد ہو اور اموال ، سٹیٹ کے اموال مراد ہوں۔اس صورت میں تمام ریاست کے اموال اور تمام ریاست کی اولاد میں ایک دوسرے پر تکاثر کی کوشش ہو گی۔چنانچہ جو اشتراکی ممالک ہیں ان میں اموال کے معنے بھی سٹیٹ کے اموال کے بن جاتے ہیں۔ریاست کے اموال اور اس لحاظ سے ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہیں۔اور یہ ساری وہ چیزیں ہیں جو انسان کے اندر بے راہروی پیدا کرتی ہیں اور اسے زندگی کے