خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 213
خطبات طاہر جلد اول 213 خطبه جمعه ۵ ارا کتوبر ۱۹۸۲ء فتوحات حضرت محمد مصطفی موہ کے سرکا سہرا ہیں۔ہم تو ادنی غلام ہیں خاک پا ہیں اس آقا کے جس کے صدقے اور جس کے طفیل یہ چھوٹی چھوٹی فتوحات نصیب ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان فتوحات کے دروازے وسیع تر کرتا چلا جائے نئے نئے میدان ہمیں نظر آئیں قربانیوں کے ، اللہ تعالیٰ کے حضور عجز کے ساتھ قربانیاں پیش کرنے کے میدان۔ہم قربانیاں پیش کریں اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کی برکت سے وہ قربانیاں قبول ہوں اور نئی نئی فتوحات کے دروازے ہم پر کھلتے چلے جائیں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔آج کل چونکہ خدام الاحمدیہ کا اجتماع ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جور پورٹیں مل رہی ہیں بہت ہی خوشکن ہیں۔حاضری کی تعداد بھی سائیکل پر آنے والوں کی تعداد بھی۔اور انہوں نے نئے نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں۔چھوٹے چھوٹے ریکارڈ ہیں لیکن ان معنوں میں رضا کے متقاضی ہیں کہ ہر چھوٹی سی برکت پر بھی ہمیں راضی ہونا چاہئے۔ہم بہت راضی ہیں لیکن اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ان چھوٹے چھوٹے فضلوں کو بڑھاتا چلا جائے۔لامتناہی کر دے۔ہم ہمیشہ ترقی کی اگلی منزل پر قدم رکھتے چلے جائیں اور کسی ایک جگہ بھی ہمارے لئے قرار کا مقام نہ آئے۔اس اجتماع کے وقت عموماً یہی دستور چلا آ رہا ہے کہ دینی مصروفیات کی وجہ سے نمازیں جمع کی جاتی ہیں۔اس لئے آج جمعہ کی نماز کے ساتھ عصر کی نماز جمع ہوگی۔اجتماع میں جو شامل ہوں گے وہ ظہر اور عصر ، مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کیا کریں گے لیکن مسجد مبارک میں یہ نمازیں اپنے وقت پر ہوا کریں گی وہاں نمازیں جمع کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔اس لئے نماز جمعہ کے بعد انشاء اللہ تعالیٰ ہم یہیں نماز عصر جمع کریں گے۔ساڑھے تین بجے انشاء اللہ خدام الاحمدیہ کے اجتماع کا افتتاح ہوگا۔انتظام کی دقتوں کی وجہ سے چند منٹ آگے پیچھے ہو جائیں تو الگ بات ہے ورنہ عموماً ساڑھے تین یا پونے چار بجے تک انشاء اللہ افتتاح ہو جائے گا تو جو دوست اس میں شامل ہو سکتے ہوں وہ اس میں شامل ہوں۔(روز نامه الفضل ربوه ۳ رنومبر ۱۹۸۲ء)