خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 201
خطبات طاہر جلد اول 201 خطبه جمعه ۵ ۱ راکتو بر ۱۹۸۲ء روشنی اور اندھیرے کا طبعی نظام اور سورۃ الفلق کی تفسیر ( خطبه جمعه فرموده ۱۵ را کتوبر ۱۹۸۲ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے سورہ الفلق پڑھی۔ قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ وَ مِنْ شَرِّ النَّفْتِ فِي الْعُقَدِ وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَةً اور پھر فرمایا: قرآن کا یہ بہت ہی پیارا اسلوب ہے کہ دعاؤں کے رنگ میں انسان کی تربیت فرماتا ہے۔ دعاؤں سے جو فائدہ انسان کو پہنچتا ہے وہ اپنی جگہ ہے۔ اس کے علاوہ ان دعاؤں میں بڑے گہرے مضامین ایسے ہیں جو انسان کی تربیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے ذہن اور اس کے قلب، اس کی فکر اور اس کے جذبات کو توازن بخشتے ہیں ، اور وہ غلطیاں جن میں انسان بسا اوقات مختلف جذبات اور مختلف مواقع پر مبتلا ہو جایا کرتا ہے ان غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان ٹھوکروں سے بچاتے ہیں۔ سورہ فلق کی یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں ان میں بھی ایک ویسی ہی بہت پیاری دعا