خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 196
خطبات طاہر جلد اول 196 خطبه جمعه ۱/۸ کتوبر ۱۹۸۲ء انتقام یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔احمدیت کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ایسے تمام افراد کواللہ تعالیٰ نے نکال باہر کیا اس کا خیال رکھے بغیر کہ وہ ابتدا درست تھے یا غلط۔مگر جوطریق انہوں نے اختیار کیا وہ یقیناً غلط اور تکلیف دہ تھا اور انہیں یہ طریق اختیار کرنے کی سزا ملی۔لیکن اگر آپ بالا نظام سے شکایت کریں اور سب سے بالا و برتر ہستی تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔آپ اس پر ایمان کیوں نہیں رکھتے۔اگر وہ زندہ اللہ ہے، اگر وہ حقیقت کبری ہے تب وہی آخری اور حتمی طاقت ہے۔اگر وہ حقیقت نہیں ، اگر وہ صرف تصوراتی اور خیالی چیز ہے تب اس نظام کو چھوڑ دیں۔ایسی احمقانہ تنظیم میں شامل ہونے کا کیا فائدہ جس کے پاس کچھ بھی نہیں اور وہ خیالی کہانیاں بُن رہی ہے۔چنانچہ اس سوال کا یہ سادہ سا جواب ہے۔خواہ مخواہ اس جماعت سے چمٹے رہنے کی بجائے آپ کو السلام علیکم کہہ کر انہیں تنہا چھوڑ دینا چاہئے۔لیکن ہر مذہبی عقیدہ کی بنیاد کے مطابق اگر اللہ کی ذات ہے جو سنتا ہے اور انسانی معاملات میں دلچسپی لیتا ہے تو پھر آپ کو اپنی فریاد بالآخر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرنی ہے۔حتی کہ اگر خلیفہ بھی آپ کی شکایت کی طرف توجہ نہ دے اور آپ کی سوچ سے متفق نہ ہو اور آپ اصرار کریں کہ وہ غلط طور پر انتظامیہ کی طرفداری کر رہا ہے تو جیسا کہ میں نے بتایا اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آخری ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے بالمقابل خلیفہ کی حیثیت ہی کیا ہے۔اس کے بالمقابل تو وہ زمین پر ایک ذرہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتا۔اللہ اگر چاہے تو اس کے ایک حکم سے وہ ختم ہوسکتا ہے۔چنانچہ جب آپ کے پاس طاقتور ترین عدالت کا راستہ کھلا ہے تو اسکو چھوڑ کر عوام کی طرف رجوع کرنا اور ان کی توجہ مبذول کروانا بتوں کی پوجا نہیں تو پھر کیا ہے۔یہ بت پرستی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ اللہ کی حکمت بالغہ پر ایمان نہیں رکھتے۔آپ ایک گویے کی طرح کچھ گیتوں کی پیروی کر رہے ہیں اور بس۔چنانچہ اس رویہ سے احتیاط کریں۔اگر آپ اس پس منظر میں درست رویہ رکھیں گے اللہ تعالی آپ پر رحم فرمائے گا۔آپ ایک بہترین معاشرے کی بنیادرکھنے والے ہوں گے۔جو پھیلتا اور وسعت پذیر ہوتا رہے گا۔جو ہر سمت سے طاقت حاصل کرے گا۔اور کوئی بھی اس قسم کے معاشرہ کو ختم کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔بعض دوستوں نے میری توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے کہ پہلے خطبہ جمعہ میں نے ایک