خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 187 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 187

خطبات طاہر جلد اول 187 خطبه جمعه ۱/۸ کتوبر ۱۹۸۲ء ہی قابو پا سکتا ہے۔جب بھی وہ دوسروں کے لئے نفرت کی تعلیم دیتا ہے لوگ اسکی پیروی کرتے ہیں اور جب بھی وہ نیکی اور قربانی کرنے کی تعلیم دیتا ہے لوگ اسے چھوڑ جاتے ہیں۔آجکل ملا اور دوسرے لوگوں میں صرف یہی رشتہ رہ گیا ہے۔ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ یہ بات سارے معاشرے میں نہ پھیل جائے ، ہمیں اس مقصد کے حصول کے لئے دور کا سفر در پیش ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی تربیت کے نتیجہ میں خدا کے فضل سے تیار ہونے والے مربیان اس قسم کے نظر آنے والے لوگوں سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔ان میں سے بہت سے ہیں جنہوں نے اپنی صلاحیتوں کے مطابق بہترین تعلیم حاصل کرنے کے بعد وقف کیا۔ان کے پاس دور استے تھے۔یا تو دنیا میں بھٹک جائیں یا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خود کو پیش کریں۔میں ایسے واقفین زندگی کو جانتا ہوں جو اگر دنیا داری میں لگ جاتے تو وہ ان لوگوں سے جو خود کو مالی طور پر ان سے بہتر سمجھ کر نامناسب رویہ اختیار کرتے ہیں، کہیں زیادہ بہتر حالات میں ہوتے ، وہ زیادہ کمارہے ہوتے اور دنیا میں زیادہ باعزت مقامات پر فائز ہوتے اور وہ بعض غیر واقفین سے کہیں بہتر طرز زندگی کے حامل ہوتے۔مگر وہ جس حال میں ہیں اُس پر مطمئن ہیں کیونکہ ان کا اجر اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔چنانچہ ان کے بارہ میں تو مجھے کوئی فکر نہیں۔مجھے فکر ان لوگوں کی ہے جو ان سے نامناسب رویہ اختیار کرتے ہیں کہ کہیں وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے نہ آجائیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جوان لوگوں سے نامناسب رویہ اختیار کریں جنہوں نے اسکی راہ میں اپنی زندگیاں پیش کر دی ہوں۔اس بارہ میں احتیاط کریں۔اگر ہم ان سے عمدہ سلوک کریں تو یہ ان کا اختیار ہے کہ وہ اسے قبول کریں یا رد کر دیں اگر وہ اسے قبول کر لیں تو وہ آپ کے اس سلوک کو قبول کر کے شکر گزاری کا ثبوت دے رہے ہیں۔آپ کے اس عمدہ سلوک کی وجہ سے وہ آپ کے غلام نہیں بن گئے۔دوسری بات یہ ہے کہ وہ احمدی جو اچھے حالات میں رہتے ہوں ان پر خواہ مخواہ تنقید نہ کی جائے۔یہ بڑی حیرت کی بات ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بعض لوگ شدت پسندی اور تنگ نظری سے زندگی گزارتے ہیں۔اگر کوئی احمدی عمدہ طریق سے زندگی گزار رہا ہو تو ایسے لوگ غضب ناک ہوکر اس پر طعن و تشنیع کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ وہ آسائش کی زندگی گزار رہا ہے۔انہیں اسلامی