خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 179 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 179

خطبات طاہر جلد اول 179 خطبه جمعه یکم اکتو بر۱۹۸۲ء آپ میں سے جو دوست پڑھے لکھے ہیں اور جو اچھی انگریزی جانتے ہیں اور جو اگر پوری طرح نہیں تو کچھ نہ کچھ قرآنی اقدار اور احمدیت کی اقدار سے واقف ہیں، انہیں یہ کتابیں پڑھ کر بتانا چاہئے کہ ان میں اسلام کے خلاف کیا کہا جا رہا ہے۔انہیں فہرستیں مرتب کرنی چاہئیں۔اس کا ایک نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ اگر وہ اس کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں تو خود اس کا جواب دیں۔مگر یہ کام تمام کا تمام خود ہی نہ کرتے رہیں۔میرے ذہن میں اس کام کے کرنے کے لئے ایک واضح لائحہ عمل ہے۔سب سے پہلے تو انہیں غلط بات کی شناخت کرنی چاہئے۔ان تمام چیزوں کی فہرست تیار کریں۔پھر اس کا جائزہ لیں اور پھر ان کتب میں جو حوالہ جات درج ہیں ان کی بنیاد تک پہنچ کر اپنی بہترین صلاحیتوں کو صرف کرتے ہوئے جواب تیار کریں۔مگر اسے صرف یہیں تک نہ چھوڑیں کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ وہ مؤثر طور پر اسلامی اقدار کی حفاظت نہ کر سکیں۔کیونکہ اس سارے قصے میں بہت سی چالاکیاں کی جاتی ہیں۔مختلف پہلوؤں سے بہت سی تحقیق کے بعد ہی درست جواب دیا جاسکتا ہے۔چنانچہ یہ تمام چیزیں، ایسی تمام کتب مرکز کو بھجوانی چاہئیں جہاں ہم انشاء اللہ ایک شعبہ قائم کریں گے جو دشمنان اسلام کی ایسی تمام کوششیں اکٹھی کرے گا اور پھر ہم اسے سنبھال کر ان تمام پہلوؤں پر تحقیقات کریں گے جن کا حوالہ دیا گیا ہے۔اس ڈیٹا کے اکٹھے ہونے کے نتیجہ میں انشاء اللہ ہم اس قابل ہوں گے کہ دشمن کے آخری مورچے تک اس کا تعاقب کریں اور یہ فوری اور بہت اہمیت کا کام ہے۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ میرے ذہن میں اس کے لئے ایک اور منصوبہ ہے جواب میں نے تیار کیا ہے۔اگر ہم اسے لوگوں پر محض اتفاقاً چھوڑ دیں تو بعض مصنفین پر نظر نہیں جائے گی اور بعض پر ہم خواہ مخواہ زیادہ قوت خرچ کر رہے ہوں گے۔چنانچہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جن جن ممالک میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے با قاعدہ جماعتیں قائم ہیں، وہاں کی مقامی انتظامیہ کو تمام احمدیوں کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنا چاہئے۔اور وہ اپنے مشنری انچارج کو تحریر ابتائیں کہ وہ کس مصنف کا مطالعہ کریں گے۔چنانچہ ایسے گروپس تیار ہوں۔مثلاً پانچ یا دس احمدی علماء منٹگمری واٹ کا مطالعہ کریں۔اس کی تمام کتب کا مطالعہ کیا جائے ان پر غور کیا جائے کہ کہاں وہ ہمارے عقائد کے خلاف گیا ہے اور کہاں اس نے جان بوجھ کر یالا علمی میں اسلام پر اعتراض کیا ہے۔اسی طرح اس نے جن کتب