خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 178
خطبات طاہر جلد اول 178 خطبه جمعه یکم اکتو بر۱۹۸۲ء نہیں اٹھائے گا۔اور باقیوں میں تو اسے اٹھانے کی طاقت ہی نہیں ہے۔کیونکہ وہ اسلامی اقدار کو اس طرح نہیں سمجھتے جس طرح آپ سمجھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کو قرآن کریم کے مطالعہ کے ذریعہ نئے راستوں سے واقف ہونے کے راز سکھائے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کو وہ اشارے سمجھائے ہیں جن کے ذریعہ آپ قرآن کریم کو باقی دنیا کی نسبت بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔چنانچہ اگر آپ نے قرآنی اقدار کی حفاظت نہ کی تو پھر کوئی اور یہ کام کر ہی نہیں سکتا۔یہ میں آپ پر واضح کر دینا چاہتا ہوں اور اس وقت یہی کچھ ہو رہا ہے۔بہت سی کتب اسلام کی تعلیمات اور آنحضور علی اللہ کی شخصیت کو بگاڑنے کے لئے مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔اور جن ممالک میں یہ طبع ہو رہی ہیں وہاں کے احمدیوں نے ان کا نوٹس ہی نہیں لیا۔مثلاً یہاں انگلستان میں میں نے بعض ایسی کتب دیکھی ہیں جن کا ہمارے لٹریچر میں ذکر تک نہیں۔مگر وہ شدید زہر آلود ہیں۔اور نئی نسل کی اسی طرح پرورش کی جارہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پالیسی میں جس تبدیلی کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے یہ بعض سیاسی تبدیلیوں کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے۔کیونکہ عرب ممالک میں تیل کی موجودگی اور عرب ممالک میں دولت کی ریل پیل کی وجہ سے اب مستشرقین اپنی پالیسی تبدیل کر رہے ہیں۔اب انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مسلمان ممالک کی دشمنی آنحضرت ﷺ کو خواہ مخواہ کذاب قرار دے کر کیوں مول لی جائے ؟ آپ کو سچا قرار دے کر آپ کی ان کے اپنے خیال کے مطابق ( نعوذ باللہ ) جھوٹی باتوں کو اجاگر کیا جائے۔چنانچہ یہ وہ پالیسی ہے جس نے اپنا نام تبدیل کیا ہے اور کچھ نہیں۔وہ قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کی کتاب کہتے ہیں مگر پھر اس کی طرف خوفناک تضادات منسوب کر دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔اور قاری ان کی تفسیر قرآن کے چند صفحات پڑھ کر ہی اندازہ کر سکتا ہے کہ یہ بے کار باتیں ہیں جن کا اللہ تعالیٰ سے یا الہامی کتب سے کوئی بھی تعلق نہیں۔چنانچہ یہ وہ دشمنی ہے جس کا آپ کو شعور ہونا چاہئے اور پوری کوشش کر کے اس کی شناخت کرنی چاہئے ، اس کا تعاقب کرنا چاہئے اور پھر ایسے دشمنانِ اسلام کو راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور کر دینا چاہئے۔