خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 177 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 177

خطبات طاہر جلد اول 177 خطبه جمعه یکم اکتوبر ۱۹۸۲ء صلى الله ہیں۔ اس سے ان کا مقصد عام قاری پر یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ یہ کتاب آنحضور ﷺ کی ہی تصنیف ہے اور بہت کمزور تصنیف ہے۔ اگر کسی چیز کی تعریف بھی کریں تو اس سے یہ اشارہ نہیں ملتا کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔ من مثلاً بعض اوقات وہ زبان کی تعریف کرتے ہیں اور مسلمان اس دھا دھوکہ کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ان کے خیال میں وہ اب اپنا رویہ تبدیل کر کے اسلام کے دوست بن گئے ہیں۔ کیونکہ صلى الله صلى الله علی انہوں نے آنحضور ﷺ کی اپنی زبان میں کبھی کبھار تعریف بھی کی ہے۔ بعض اوقات وہ آنحضور کی مدح بھی کرتے ہیں ۔ مگر ان شعبوں میں جن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں وہ آپ کی بطور انسان تعریف کرتے ہیں۔ یا وہ آپ کی بعض عظیم الشان خوبیوں اور لیڈرشپ کی تعریف کرتے ہیں۔ مگر یہ سب فریب ہے۔ وہ اسلام کے پکے دشمن ہیں مگر اپنی زبان اور رویہ میں تبدیلی پیدا کر کے وہ لوگوں کو پہلے سے زیادہ دھوکہ دے رہے ہیں ۔ مجھے حال ہی میں اس بات کے معلوم ہونے پر شدید دھکا لگا کہ بہت سے عرب طلبہ برطانوی یونیورسٹیوں میں اسلام کے مطالعہ کے لیے آتے ہیں۔ تا کہ وہ ان نام نہاد مستشرقین سے اسلام سیکھیں۔ صرف ایک یونیورسٹی میں ہی اسلام کا مطالعہ کرنے والے پچاس سے زائد عرب طلبہ موجود ہیں۔ اور جو کچھ بھی انہیں وہاں پڑھایا جاتا ہے وہ اسے امرت سمجھ کر پیتے ہیں۔ وہ اسے یہ جانے بوجھے بغیر نگل جاتے ہیں کہ یہ وہی زہر ہے جو پہلے بھی استعمال ہوتا تھا مگر اسکا لیبل بدل گیا ہے۔ چنانچہ صورت حال بہتر ہونے کی بجائے خراب ہوئی ہے۔ مگر میرا مشاہدہ ہے کہ بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور ان کے عزائم کیا ہیں؟ چنانچہ اسی وجہ سے میں نے آج اس مضمون کو چنا ہے۔ میں ساری دنیا کے تمام احمد یوں سے واضح طور پر چاہتا ہوں کہ وہ اس آیت میں مذکور ستاروں کا کردار ادا کریں۔ آپ ہی اس نئے آسمان کے ستارے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تیار کیا تھا۔ آپ ہی پر اسلام کے دفاع کی بنیاد ہے۔ اگر آپ سوتے رہے تو آپ اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہوں گے۔ اگر آپ نے اسلام کا دفاع نہ کیا تو کون ہے جو آپ کی جگہ اسلام کا دفاع کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ذمہ داری ہمارے سپرد کی ہے۔ اس نے ہمیں اسی مقصد تعالیٰ کے لئے چنا ہے۔ چنانچہ اگر ہم یہ ذمہ داری ادا نہ کر سکے تو کوئی بھی ہمارے لئے آگے بڑھ کر یہ بوجھ