خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 159 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 159

خطبات طاہر جلد اول 159 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۸۲ء لفظ دجال کا استعمال کروں تو اس سے یہی مراد لی جائے۔مجھے دجال کے لفظ کے معانی ہر دفعہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی تفصیل سے بیان فرما دیا - ہے کہ کیوں آپ عیسائی اور مغربی تہذیبوں اور ان کے مذہب کو آنحضور ﷺ کی اس حدیث میں بیان فرمودہ پیشگوئی کا نمونہ قرار دیتے ہیں۔دوسرے جیسا کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں جہاں تک دنیا کے معاملات کا تعلق ہے وہ بہت ترقی یافتہ ہیں۔انہوں نے اتنی زبردست ترقی کی ہے جو باقی دنیا کے لئے حیران کن ہے۔وہ فلاسفی ، سائنس اور معاشرتی علوم کی تمام مادی شاخوں میں دنیا کی راہ نمائی کر رہے ہیں۔انسانی زندگی سے متعلق تمام دیگر دنیوی معاملات میں بھی جن کا مذہب، اخلاقیات یا خدا سے کوئی تعلق نہیں مغربی معاشرہ تمام بنی نوع انسان کی راہ نمائی کر رہا ہے۔وہ لوگ خالق کے حوالہ سے اپنے اوپر عاید ہونے والی ذمہ داریوں سے اسکی اطاعت سے اور دیگر مذہبی فرائض سے بالکل اندھے ہیں۔وہ سائنس میں اتنے ترقی یافتہ ہیں کہ اب وہ آسمان سے باتیں کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔اردو میں آسمان سے باتیں کرنے سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص اتنا بلند ہونے کی کوشش کرے کہ جیسے وہ ان بلندیوں کو چھونے لگا ہو، جیسے وہ ستاروں سے باتیں کرنے لگا ہو۔اور یہ وہ چیز ہے جو انہوں نے واقعتا کر کے دکھادی ہے۔جب انہوں نے پہلی مرتبہ چاند پر قدم رکھا تو انہوں نے چاند اور دیگر ستاروں سے بڑے فخر سے کہا کہ اب ہم یہاں پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے خلا میں دیگر مقامات کی تلاش شروع کر دی تا کہ وہ مزید بلندیوں تک پہنچ سکیں۔تو جہاں تک دنیوی معاملات کا تعلق ہے یہ محض ایک سمت ہے۔انہوں نے نہایت مہلک اور زبردست ہتھیار ایجاد کر لئے ہیں، اتنے خطر ناک اور مہلک کہ اگر وہ انہیں بنی نوع انسان کے خلاف استعمال کرنے کا ارادہ کر لیں تو کرہ ارض کے بڑے حصے سے نوع انسان کا وجو دمٹ جائے۔یہ سب کچھ انہیں مادی دنیا اور قوانین قدرت دیکھنے والی بائیں آنکھ کی وجہ سے نصیب ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں گہری نظر رکھنے والی آنکھ سے نوازا ہے۔اور یہ سب کچھ پہلے بتادیا گیا تھا۔عیسائیت کی آئندہ طاقت کے بارہ میں یہ احادیث حضرت محمد مصطفی اللہ نے خود ہی نہیں