خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 141
خطبات طاہر جلد اول 141 خطبه جمعه ۱۰ر ستمبر ۱۹۸۲ء نظر نہیں آتا۔اس لئے دعاؤں کی طرف توجہ بڑھتی رہی۔لیکن ساتھ ہی میں نے بڑے غم اور دکھ کے ساتھ یہ بھی محسوس کیا کہ جماعت کے ایک طبقہ میں ابھی پوری طرح قربانی کا وہ احساس نہیں جوان مشکلات کے مقابل پر ہونا چاہئے۔بہت سی جگہ بہت کوشش اور محنت کے ساتھ فہرستیں تیار کروائی گئیں چندہ دہندگان کی تجنید کروائی۔مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب نے اس سلسلے میں میری بڑی مدد کی اور یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ بعض جگہ پچاس فیصدی سے زائد ایسے احمدی ہیں جو ایک آنہ بھی چندہ نہیں دے رہے۔دنیا کے لحاظ سے ان کی کایا پلٹ چکی ہے۔وہ اور ماحول میں بسا کرتے تھے کسی وقت ، اب اور ماحول میں پہنچ چکے ہیں۔کوئی نسبت ہی نہیں خدا تعالیٰ کے ظاہری فضلوں کے ساتھ اس زندگی کو جو وہ پہلے بسر کرتے تھے۔مگر کلیتہ ان فضلوں کو بھلا کر وہ خدا تعالیٰ کے دین کی ضرورتوں سے غافل ہو کر محض اپنی ضرورتوں میں مگن ہیں اور ان کے پورا کرنے کی فکر میں سرگرداں ہیں۔یہ دیکھ کر تعجب ہوا اور بہت دکھ ہوا۔پھر ان لوگوں کی فہرستوں کا مطالعہ کیا جو چندہ دیتے ہیں۔ایک حصہ ان میں ایسا پایا جن کو خدا نے بہت کچھ دیا لیکن مقابل پر بہت تھوڑا پیش کرتے ہیں۔وہ پیش نہیں کرتے جس سے ان کو محبت ہے۔وہ پیش کرتے ہیں جو وہ زائد از ضرورت سمجھ کر پھینک سکتے ہیں۔ان کو میں نے بتایا کہ دیکھو! قرآن کریم تو فرماتا ہے۔لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران : ۹۳) کہ ہر گز تم نیکی کو نہیں پاسکو گے جب تک وہ کچھ خرچ نہیں کرو گے جس سے تمہیں محبت ہو۔تم تو خدا کی راہ میں وہ دے رہے ہو جس سے تمہیں محبت نہیں۔وہ زائد چیز ہے جو تم پھینک بھی سکتے ہو۔تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا اس سے۔تمہارے روز مرہ کے دستور پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔اس لئے اس کو کیوں ضائع کرتے ہو۔تقویٰ سے کام لو۔اگر قربانی کی توفیق نہیں تو چھوڑ دو اس راہ کو لیکن خدا تعالیٰ سے سچائی کا معاملہ کرو۔تب وہ تم سے سچائی کا معاملہ کرے گا۔رجوع برحمت ہوگا۔پھر رازق سے ڈرنا۔رازق کو دیتے ہوئے ڈرنا، اس سے بڑی بیوقوفی کوئی نہیں۔اسی طرح سفر کے دوران ایک موقع پر بعض دوستوں کے حالات کے متعلق دیکھ کر بہت ہی دکھ پہنچا۔بہت ہی اللہ تعالیٰ نے فضل فرمائے لیکن مقابل پر کسی قسم کی کوئی قربانی نہیں۔اس پر مجھے وہ