خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 140
خطبات طاہر جلد اول 140 خطبه جمعه ۱۰ر ستمبر ۱۹۸۲ء کے پس منظر میں جلوہ گر ہیں جیسی اس مسجد کے پس منظر میں جلوہ گر ہیں؟ ہرگز دنیا کی مساجد کو اس مسجد سے کوئی نسبت نہیں۔ان دعاؤں کے ساتھ میرا ذہن اہل مغرب کی طرف بھی منتقل ہوتا ہے جو دعاؤں کے بہت محتاج ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ایک مسجد سے کچھ نہیں بنے گا۔بستی بستی مسجد بنانے کی ضرورت ہے۔قریہ قریہ اذانیں دینے کی ضرورت ہے ، خدا کا نام بلند کرنے کی ضرورت ہے۔اتنا شرک پھیلا ہوا ہے، اتنی تباہی مچائی ہوئی ہے کفر نے کہ انسان محو حیرت رہ جاتا ہے کہ آجکل کا باشعور انسان اتنا بھی گراوٹ میں ملوث ہوسکتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے جو اپنی پیشگوئی میں اس قوم کو ایسے دجال کے طور پر بیان فرمایا جس کی دائیں آنکھ اندھی اور بائیں آنکھ روشن ہے۔اس سے بہتر فصاحت اور بلاغت کا ایک جملہ تصور میں نہیں آ سکتا جس نے ان قوموں کی ساری تصویر بھینچ کے رکھ دی ہے۔ایک طرف دنیا کی آنکھ ہے، اتنی تیز نظر ہے کہ پاتال کی خبر لاتی ہے اور دوسری طرف دین کی آنکھ ہے جو اتنی اندھی ہے کہ جگہ جگہ شرک کا گہوارہ بنا ہوا ہے۔خدا کی عبادت ہی ایک عبادت ہے جس سے یہ غافل ہیں۔باقی ہر دوسری چیز کی عبادت ہو رہی ہے۔لہو و لعب کی عبادت ہو رہی ہے۔بتوں کی عبادت ہورہی ہے۔فسق و فجور کی عبادت ہو رہی ہے۔جھوٹ کی عبادت ہو رہی ہے۔دجل کی عبادت ہورہی ہے۔صرف ایک خدا ہے جس کی عبادت نہیں ہو رہی۔ان سب کی تقدیر بدلنی ہے۔ایک مسجد تو کافی نہیں اور پھر ایک ایسی مسجد سے کس طرح تقدیر بدلی جائے گی جس کے لئے نمازی پیدا نہ ہوں۔بے انتہا کام کی ضرورت ہے۔بے انتہا قربانیوں کی ضرورت ہے۔بے حد واقفین کی ضرورت ہے۔بے حد مالی قوت کی ضرورت ہے۔اور ہم جب اپنے او پر نظر کرتے ہیں تو بہت ہی کمزور اور حقیر اور بے بس اپنے آپ کو پاتے ہیں۔یورپ کے دورے میں ان خیالات میں مگن ہوتے ہوئے میں سوچتارہا اور میری فکر بڑھتی گئی۔ان معنوں میں نہیں کہ مجھے مایوسی کی طرف لے جائے۔بلکہ ان معنوں میں کہ دعا کی طرف اور زیادہ اور بھی زیادہ مائل کرتی رہی۔کیونکہ میں جانتا تھا کہ ساری مشکلات ایک طرف لیکن ہمارے رب کی ایک نظر ایک طرف، وہ ان سب مشکلات کو خس و خاشاک کی طرح اڑ سکتی ہے۔وہ اس طرح غائب کر سکتی ہے جیسے روشنی کے ساتھ اندھیرے غائب ہو جاتے ہیں۔اور اس میں کسی کوشش کا دخل