خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 131
خطبات طاہر جلد اول 131 خطبه جمعه ۳ / ستمبر ۱۹۸۲ء یورپ کا اخلاقی انحطاط اور جماعت احمدیہ کی ذمہ داری خطبه جمعه فرموده ۳ ستمبر ۱۹۸۲ء بمقام آخن جرمنی ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اب تک کے مختصر سے سفر میں یورپ کے جتنے ممالک میں بھی جانے کا موقع ملا ہے یہ احساس زیادہ شدت کے ساتھ پیدا ہوتا رہا ہے کہ یہ تو میں مجموعہ تضادات ہیں۔ایک پہلو سے ان کو دنیا کی ترقیاں نصیب ہوئیں اور ابھی تک وہ ترقیاں ان کو حاصل ہیں اور ایک دوسرے پہلو سے یعنی روحانی اور اخلاقی لحاظ سے یہ لوگ گرتے چلے گئے یہاں تک کہ اس آخری کنارے پر پہنچ گئے ہیں جس سے آگے سزا و جزا کا دور شروع ہوتا ہے، مزید آگے بڑھنے کی مہلتیں نہیں ملا کرتیں۔اور یہ جو Point یعنی نقطہ ہے جہاں پہنچ کر تو میں سزا اور جزا کے عمل میں داخل ہو جاتی ہیں ، جسمانی اور مادی ترقی کا دور بھی وہاں تک پہنچا ہوا ہے اور یہ دونوں سمتوں کے نقطے آپس میں ملنے والے ہیں۔مادی ترقی بھی جب اخلاقی ضوابط سے آزاد ہو جاتی ہے تو خود انسان کی تباہی کیلئے استعمال ہونے لگتی ہے اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی کو زیادہ تیز رفتار کار چلانے کی مشق نہ ہو، اس کی مہارت نہ ہو اور وہ اپنی طاقت سے بڑھ کر تیز کار چلانے لگ جائے۔مادی ترقی کا تو کوئی آخری