خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 128 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 128

خطبات طاہر جلد اول 128 خطبه جمعه ۲۰ / اگست ۱۹۸۲ء چھوڑے گی۔کوئی مشکل ان سے یہ جنت چھین نہیں سکے گی۔کوئی آسانی ان سے یہ جنت چھین نہیں سکے گی۔اس جنت کو پانے کے بعد پھر وہ ان لوگوں کو جنہوں نے ان کو دکھ دیے ہوتے ہیں یا جن کے ہاتھوں انہوں نے مصائب اٹھائے ہوتے ہیں ان کے متعلق بھی ان کی رائے بدل جاتی ہے۔ان کے دل میں انتقام باقی نہیں رہتا اور کوئی نفرت کا جذبہ نہیں رہتا۔فرماتا ہے وَالْكُظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ یہ اصحاب جنت ایک عظیم الشان انقلابی کیفیت پیدا کر جاتے ہیں اور وہ کیفیت یہ ہے وَالْكُظِمِينَ الْغَيْظَ ان کو شدید غصہ آئے تو اس کو دبانے لگ جاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں اے خدا! ہمیں تو مل گیا ہے تو اب شکوہ کس بات کا اور غصہ کس سے۔اگر غیر نے ہمیں مبتلائے مصیبت کیا اور اس کے نتیجہ میں ہمیں تو مل گیا اور تیرا فضل نصیب ہو گیا تو پھرکـــظــــمین والی کیفیت تو ہمارے مقدر میں آگئی ، اب تو ہمیں غصہ برداشت کرنا پڑے گا۔وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ جنہوں نے ان کو دکھ دیے ہوتے ہیں ان سب کو معاف کر دیتے ہیں۔غالب کہتا ہے۔سفینہ جب کہ کنارہ پہ آلگا غالب خدا سے کیا ستم و جور نا خدا کہئے (دیوان غالب) یہ ایک ناقص اظہار ہے اسی مضمون کا لیکن وہ ایک کامل اظہار ہے قرآن کریم کی آیت میں جس کی طرف میں آپ کی توجہ مبذول کروا رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب یہ لوگ اپنے خدا کو پالیتے ہیں اور انہیں جنتیں نصیب ہو جاتی ہیں تو مصائب والم کی یادیں ان کے دلوں میں تفخی پیدا نہیں کرتیں۔ان مشکل راہوں کی یادیں جن سے گزر کر یہ میری رضا کی جنت میں داخل ہوئے ہوتے ہیں ان کو بددعائیں دینے پر آمادہ نہیں کیا کرتیں۔وہ دعائیں دیتے ہیں ان لوگوں کو بھی جنہوں نے ان کو دکھ پہنچائے تھے ان کے لئے بھی خیر کے سوا ان کے دل سے کچھ نہیں نکلتا۔پس آج کا پیغام میرا یہی ہے کہ ہمارا وہ ملک جس کے دکھوں کے ستائے ہوئے آپ لوگ یہاں آئے تھے جب خدا کی رضا آپ کو حاصل ہو گئی ، جب اللہ نے اپنے پیار کی جنت آپکو عطا کردی تو اس کی بخشش کے لئے ، اس کی ترقی کے لئے اور اس کے استحکام کے لئے دعائیں کریں۔اس کے سوا اپنے دل میں کچھ نہ رکھیں۔کیونکہ خدا آپ سے یہ توقع رکھتا ہے۔کہ جب تم نے خدا کی رضا پالی،