خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 9
خطبات طاہر جلد اول 9 خطبه جمعه ۱۸ جون ۱۹۸۲ء عالم الغیب والشھادۃ کی تشریح اور استحکام خلافت احمدیہ کا پر شوکت وعدہ ( خطبه جمعه فرموده ۱۸ رجون ۱۹۸۲ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے حسب ذیل آیت قرآنی پڑھی: هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمُ (الحشر (٢٢) اور پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف وہی اللہ ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ۔ وہ غیب کا علم بھی جانتا ہے اور حاضر کا بھی اور وہ رحمن اور رحیم ہے۔ ایک سرسری نظر سے جب ہم اس آیت کے مضمون کا جائزہ لیتے ہیں تو تعجب ہوتا ہے کہ غیب کا علم جاننا تو ایک بہت مشکل کام اور اعجوبہ کا کام ہے۔ لیکن حاضر کے علم کے متعلق خدا تعالیٰ نے کیوں دعوی فرمایا کہ میں حاضر کا علم بھی جانتا ہوں ۔ جو سامنے ہے اس کو بھی جانتا ہوں اور جو غیب ہے اس کو بھی جانتا ہوں ۔ یہ سرسری نظر کے جائزے سے سوال پیدا ہوتا ہے اور انسان جو غلط فہمی میں مبتلا ہے وہ سمجھتا ہے کہ حاضر کے علم میں تو میں بھی خدا کا شریک ہوں اپنے دائرہ کار میں ، ہاں غیب کے متعلق اسے فوقیت ہے۔ وہ میں نہیں جانتا۔ حالانکہ جب مزید غور کریں اس آیت کے مضمون پر تو