خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 9 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 9

خطبات طاہر جلد اول 9 خطبه جمعه ۱۸/ جون ۱۹۸۲ء عالم الغیب والشھادۃ کی تشریح اور استحکام خلافت احمدیہ کا پر شوکت وعدہ (خطبه جمعه فرموده ۱۸ جون ۱۹۸۲ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے حسب ذیل آیت قرآنی پڑھی: هُوَ اللهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ج هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ ) ( الحشر : ٢٢) اور پھر فرمایا: ج اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف وہی اللہ ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔وہ غیب کا علم بھی جانتا ہے اور حاضر کا بھی اور وہ رحمن اور رحیم ہے۔ایک سرسری نظر سے جب ہم اس آیت کے مضمون کا جائزہ لیتے ہیں تو تعجب ہوتا ہے کہ غیب کا علم جانا تو ایک بہت مشکل کام اور اعجوبہ کا کام ہے۔لیکن حاضر کے علم کے متعلق خدا تعالیٰ نے کیوں دعوی فر مایا کہ میں حاضر کا علم بھی جانتا ہوں۔جو سامنے ہے اس کو بھی جانتا ہوں اور جو غیب ہے اس کو بھی جانتا ہوں۔یہ سرسری نظر کے جائزے سے سوال پیدا ہوتا ہے اور انسان جو غلط انہی میں مبتلا ہے وہ سمجھتا ہے کہ حاضر کے علم میں تو میں بھی خدا کا شریک ہوں اپنے دائرہ کار میں ، ہاں غیب کے متعلق اسے فوقیت ہے۔وہ میں نہیں جانتا۔حالانکہ جب مزید غور کریں اس آیت کے مضمون پر تو