خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 120 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 120

خطبات طاہر جلد اول 120 خطبه جمعه ۲۰ / اگست ۱۹۸۲ء۔God bless you۔God bless you پر حقیقت یہ ہے کہ اگر ساری دنیا بھی مذاق اڑائے تب بھی ایک احمدی نوجوان کو کوڑی کی پرواہ نہیں ہونی چاہئے۔وہ آزاد مرد ہے۔خدا کے سوا اس کی گردن کسی کے ہاتھ میں نہیں۔یہی حقیقی آزادی ہے جو انسان کو ایمان کے نتیجہ میں نصیب ہوتی ہے۔اگر وہ ان چیزوں کی کوڑی بھی پرواہ نہیں کرے گا تو دنیا اس کے سامنے جھکے گی۔دنیا اس کی پہلے سے زیادہ عزت کرے گی۔دنیا میں ہمیشہ یہی دیکھا گیا ہے کہ خدا کی خاطر ذلتیں قبول کرنے والے دنیا میں کبھی ذلیل نہیں کئے گئے۔ان کی عزتوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیشہ اضافے ہوتے ہیں اور برکتیں ملتی ہیں۔پس اس جھوٹے خیال کو دل سے نکال دیں۔یہ مشرکانہ خیال ہے۔کسی احمدی کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ عبادت کرتے ہوئے دنیا کی طرف نگاہ رکھے اور شرمانے لگے کہ وہ مجھے کیا سمجھیں گے۔تیسری بات وقت پر نماز پڑھنے کے متعلق ہے۔اس بارہ میں میں پہلے کہہ چکا ہوں۔چوتھی بات نماز با جماعت کے متعلق ہے اس سلسلہ میں میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ لوگوں کو یہ وہم ہے کہ جب تک آٹھ دس آدمی اکٹھے نہ ہو جائیں باجماعت نماز نہیں ہو سکتی۔آنحضرت ﷺ کو جو دین عطا ہوا وہ ایک ایسا کامل اور عظیم الشان دین ہے کہ اس کی راہ میں کسی صورت میں، کسی شکل میں کوئی مشکل بھی حائل نہیں ہوتی چنانچہ جہاں تک مسجد کی ضرورت کا تعلق ہے آپ نے یہی فرمایا کہ اگر مسجد میسر ہو تو ضرور مسجد تک پہنچو۔یہ تمہارا فرض ہے۔لیکن اگر مسجد مہیا نہیں تو آپ نے اپنی امت کو یہ عظیم الشان خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ نے ساری زمین میرے لئے مسجد بنادی ہے۔( صحیح بخاری کتاب الصلوۃ باب قول النبی عه بعلت لی الارض مسجد او لھو را) صرف آپ ہی وہ نبی ہیں جن کے لئے دنیا کی ساری زمین مسجد بنادی گئی ہے کیونکہ آپ ساری دنیا کے لئے نبی بن کر تشریف لائے تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ سہولت عطا فرمائی کہ کسی خاص عبادت گاہ کی بھی ضرورت نہیں ہے، تیرے غلاموں کو جہاں کہیں نماز کا وقت آجائے تو وہیں نماز پڑھ لیں وہی جگہ ان کے لئے مسجد بن جایا کرے گی۔پس اس سے یہ مشکل حل ہو گئی کہ مسجد تک پہنچنا ضروری ہوتا ہے اور کوئی آدمی یہ عذر نہیں کر سکتا کہ ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا ہم مسجد پہنچ نہیں سکتے ، مجبوریاں ہیں۔دوسرے جہاں تک ساتھیوں کا تعلق ہے۔یہ مسئلہ بھی آنحضرت مﷺ نے ہمیشہ کے لئے صلى الله حل فرما دیا۔ایک صحابی نے جب دیکھا کہ حضور اکرم ﷺ با جماعت نماز پر بہت زور دیتے ہیں تو اس