خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 113
خطبات طاہر جلد اول 113 خطبه جمعه ۲۰ / اگست ۱۹۸۲ء کر کھڑے ہوتے تھے تا کہ آنحضرت عے ان کو رد نہ فرما دیں کیونکہ آنحضور ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ چھوٹی عمر کے بچوں کو واپس کر دیا جائے گا۔میدان جنگ میں بالغ مردوں کی ضرورت ہے اور بالغ لو گوں پر ہی جہاد فرض ہے۔بچوں کا کام نہیں ہے کہ وہ میدان جنگ میں پہنچیں۔تاریخ بتاتی ہے کہ وہ بچے قطار میں اس طرح کھڑے تھے کہ ایڑیاں اونچی کر کے پنجوں کے بل کھڑے تھے اور گردنیں تان رکھی تھیں تا کہ قد اونچا نظر آئے۔وہ اس لئے ایسا نہیں کر رہے تھے کہ انکو کوئی تکبر تھا۔وہ اس لئے ایسا کر رہے تھے کہ خدا کی راہ میں گردنیں کاٹی جائیں اسکے سوا انکا گر دنوں کو اونچا کرنے کا اور کوئی مقصد نہیں تھا آنحضرت ﷺ نے جب یہ نظارہ دیکھا تو مسکرا کر فرمایا۔میں تمہیں جانتا ہوں۔تم بچے ہو۔تمہیں وا پس چلے جانا چاہئے۔ایک بچے نے دوسرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یا رسول اللہ ! میری عمر اس سے زیادہ ہے۔اس لئے مجھے اجازت دیدیں۔چنانچہ اس کا شوق اور بے قراری دیکھ کر آنحضور علی نے اس کو اجازت دے دی۔دوسرا بچہ بے قرار ہو کر بولا یا رسول اللہ ! کشتی کروا کر دیکھ لیں۔میں اس کو گرا لیا کرتا ہوں۔اگر اس کا حق شامل ہونے کا ہے تو میرا حق فائق ہے۔چنانچہ حضور اکرم ﷺ نے اس کو بھی اجازت دے دی۔( تاریخ طبری جلد 2 ص 61، سیرت النبی ﷺ ابن ھشام جلد 2 ص 66) تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہی وہ دو بچے تھے جو ایک مسلمان مجاہد کے دائیں اور بائیں کھڑے تھے۔ان کی یہ روایت ہے کہ جب میں نے اپنی دائیں اور بائیں طرف دیکھا تو میں پریشان ہوا کہ میرے دونوں بازو کمزور ہو گئے کیونکہ لڑنے والے سپاہی جانتے ہیں کہ اگر باز و مضبوط ہوں تو ان کو خدمت کا زیادہ موقع ملتا ہے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں ابھی میں اس فکر میں ہی تھا کہ اچانک ان کو ایک طرف سے کہنی پڑی۔انہوں نے مڑ کر دیکھا ان میں سے ایک بچہ یہ پوچھ رہا تھا کہ چا! وہ ابو جہل کون ہے جو میرے آقا محمد مصطفی ﷺ کوگالیاں دیتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اس کی آواز میں ایسی بیقراری اور بے چینی تھی کہ گویا غم کا مارا ہوا وہ معصوم دل صرف اسی دُکھ میں مبتلا تھا کہ وہ ظالم ہے کون جو محمد مصطفی ﷺ کو گالیاں دیتا ہے۔وہ بیان کرتے ہیں، میں نے تعجب سے اس کو دیکھا کہ اتنے میں بائیں طرف سے میرے کہنی پڑی اور دوسرے بچے نے بھی یہی سوال کیا چا! وہ ابو جہل کون ہے جو ہمارے آقا محمد مصطفی ﷺ کو گالیاں دیتا ہے۔ابھی لڑائی شروع نہیں ہوئی تھی۔صف بندی کی جارہی تھی۔انہوں نے میدان پر نظر ڈالی تو ابوجہل نظر آ گیا اس کی طرف انگلی اٹھائی اور کہا وہ ہے وہ ظالم جومحمد مصطفی ﷺ کو گالیاں دیتا ہے۔وہ کہتے ہیں