خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 6
خطبات طاہر جلد اول 6 خطبہ جمعہ اا/ جون ۱۹۸۲ء اٹھتے اور گرتے ہوئے ایک قدم کی طرح بڑھتے ہوئے ہم تمام نیک کاموں میں ترے ساتھ تعاون کریں گے اور کوشش کریں گے کہ جگہ جگہ خدا کی عبادت کے معیار بلند ہو جائیں۔مسجدیں پہلے سے زیادہ آباد نظر آنے لگیں۔اللہ کی یاد سے دل زیادہ روشن اور پر نور ہو جائیں۔جھگڑے اور فساد مٹ جائیں اور ان کا کوئی نشان باقی نہ رہے۔ایک کامل اخوت اور محبت کا وہ نظارہ نظر آئے جو اس دنیا کی جنت کہلا سکتی ہے اور وہ قائم ہونے کے بعد حقیقت میں انگلی دنیا کی جنت کی خواہیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ہم پوری کوشش کریں گے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کو جاری وساری رکھیں ، زندہ رکھیں۔جو کمزوریاں پیدا ہو چکی ہیں ان کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔اور کوشش کریں گے کہ ایسی نیکیاں عطا ہوں کہ ہر روز ہم نئے پھل پانے والے ہوں نیکیوں کے۔اس قسم کے اگر ریزولیوشن کرنے ہیں تو ان کے ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوں گی۔اگر محض دوسرے ریزولیوشن ہوں تو ان کے ساتھ ذمہ داریاں کوئی خاص عائد نہیں ہوتیں۔جب دل ان ریزولیوشنز سے گزریں گے تو ایک پاک تبدیلی پیدا ہوگی۔ایک نیکی کی لہر دوڑے گی۔اور حقیقت یہ ہے کہ تجدید بیعت کا مطلب ہی یہی ہے اور یہی اس کی روح اور اس کا فلسفہ ہے۔ورنہ جو مسلمان چلا آ رہا ہے جس کا دل بیعت شدہ ہے اس کو ظاہر کیا ضرورت تھی بیعت کرنے کی۔اس کا ایک مقصد ہے۔اور وہ ضروری بھی ہے کیونکہ اگر یہ ضروری نہ ہوتا تو ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی ملالہ کی بیعت کے بعد پھر کسی دوسرے خلیفہ کی بیعت کی ضرورت نہیں تھی۔پھر اس بیعت کے بعد جو بیعت رضوان کے نام سے آسمان کے روشن ستاروں کی طرح چمک رہی تھی، اس بیعت کے بعد پھر ضرورت کیا تھی ابو بکر یا عمر یا علی یا عثمان کی بیعت کی۔پس بیعت ضروری ہے اور یہ سنت ہے جس کو ہم نے بہر حال زندہ اور قائم رکھنا ہے۔اور اس لئے ضروری ہے کہ بیعت کے الفاظ سے اس تجدید کے وقت جب کہ دل خاص درد کی حالت میں مبتلا ہوتے ہیں ایک نئی زندگی ملتی ہے۔ایک نئی روح ملتی ہے۔یہ وقت احیائے نو کا ہے۔اور اس وقت کی