خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 55
خطبات طاہر جلد اول 55 خطبہ جمعہ ۶ ار جولائی ۱۹۸۲ء کہ اے محمد مصطفی علے اگر تو ستر مرتبہ بھی ان کیلئے استغفار کرے تو میں اس استغفار کو قبول نہیں کروں گا۔اب تعجب کی بات ہے بظاہر یوں لگتا ہے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی گویا قدرکم ہورہی ہے کہ اتنا عظیم الشان رسول اتنا پیارا جس نے اپنی ذات کو ضم کر دیا ذات باری تعالیٰ میں ، اس کو خدا فرمارہا ہے کہ ستر مرتبہ بھی تو نے دعائیں کیں ان کے لئے تو میں نہیں سنوں گا لیکن اصل مفہوم کو لوگ نہیں سمجھتے۔یہ وہی مضمون چل رہا ہے جو إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِّي قَرِيبُ میں بیان ہوا تھا اور اس کے بعد خدا نے فرمایا تھا فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوابی کہ دعائیں سنوں گا لیکن استجابت تو کرو پہلے۔میری باتوں کا بھی تو کچھ خیال کیا کرو۔تم یکطرفہ ہی سناتے رہو گے ہمیشہ۔یکطرفہ رحمتوں کا دور بہت وسیع ہے۔وہ تمہیں مل چکی ہیں۔ساری رحمانیت کی چادر تمہارے اوپر چھائی ہوئی ہے اور اس کے سائے تلے تم پرورش پارہے ہو۔ساری ربوبیت کا فیض تمہیں پہنچ رہا ہے۔لیکن یہ وہ مقام ہے جہاں اب معاملہ دونوں طرف سے جاری ہوگا۔فَلْيَسْتَجِيبُوانی میری باتیں مانا کرو۔اور یہی مضمون آگے چلتا ہے محمد مصطفی عملے کے متعلق۔اللہ تعالیٰ یہ بیان کرنا چاہتا ہے کہ اے محمد ! تو تو اپنی رحمت اور شفقت کے نتیجے میں ان کیلئے دعائیں مانگ رہا ہے، ان کے لئے بیقرار ہورہا ہے، ان کے لئے اپنی جان کو ہلاک کر رہا ہے لیکن میں ان کے اعمال کو دیکھ رہا ہوں وہ تیری باتیں نہیں مانتے، تیری طرف توجہ نہیں کرتے ، حقیقت میں تجھ پر ایمان بھی نہیں لاتے ، تجھ سے محبت نہیں رکھتے۔اس لئے تیری محبت کا تقاضا یہ ہے میرا تیرے سے پیار اور خاص مقام کا تقاضا یہ ہے کہ میں ان دعاؤں کو رڈ کر دوں جوان ناشکرے لوگوں کیلئے تو کرتا ہے۔پس دعا ئیں چاہے براہ راست کی جائیں چاہے بالواسطہ کروائی جائیں یہ بنیادی فلسفہ ہے جس کو بھول کر دعا کرنے والا یا کروانے والا کبھی کامیاب نہیں ہوا کرتا۔یہی مضمون خلافت کے ساتھ تعلق میں بھی ہے۔بیشمار لوگ ، میں نے دیکھا حضرت مصلح موعودؓ کو خط لکھا کرتے تھے،حضرت خلیفہ اسیح الثالث کو خط لکھتے تھے، مجھے بھی لکھتے ہیں میری ذات کی تو کوئی حقیقت نہیں۔نا قابل بیان ہے وہ کیفیت جب میں اپنی ذات پر غور کرتا ہوں اور اپنی بے بساطی کو پاتا ہوں، اور کم مائیگی کو دیکھتا ہوں اللہ ہی جانتا ہے کہ میرے دل کی کیا حالت ہوتی ہے۔لیکن خدا نے منصب خلافت پر مجھے مقررفرمایا اور اس منصب کی خاطر لوگ مجھے دعا کیلئے لکھتے ہیں ان کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے پہلے بھی یہی دیکھا تھا اور آئندہ بھی