خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 7
خطبات طاہر جلد اول 7 خطبہ جمعہ اا/ جون ۱۹۸۲ء قدر کریں اور اس کو ہاتھ سے جانے نہ دیں۔میں اپنے اندر ایک بات محسوس کر رہا ہوں مجھے یوں لگا کہ میں کل مر چکا ہوں اور ایک نیا وجود پیدا ہوا ہے۔اور میری دعا ہے کہ ان معنوں میں ایک قیامت برپا ہو جائے اور گھر گھر میں نئے وجود پیدا ہوں اور وہ عظیم الشان کام حضرت محمد مصطفی ﷺ کے دین کا جھنڈا تمام دنیا میں سر بلند کرنے کا کام اور تمام ادیانِ باطلہ پر اسلام کے غلبہ کا کام خدا کرے کہ ہماری ان تبدیلیوں کے نتیجہ میں ہمارے ہاتھوں رونما ہو اور ہم خدا کے حضور سرخروئی کے ساتھ قیامت کے دن پیش ہوں کہ اے آقا ! ہمارا تو کچھ نہیں تھا، تو نے ہی سب فضل کئے لیکن ہمیں چنا، ہم ادنی غلاموں کو چن لیا، یہ تیرا احسان ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔خطبہ ثانیہ کے بعد حضور نے فرمایا: دوست ایک بات سن لیں۔نمازیں جمع ہوں گی کیونکہ بہت سے احباب جو بیرون سے تشریف لائے ہیں ، انہوں نے آج ہی غالباً اکثر نے واپس جانے کا ارادہ کیا ہوا ہے۔مجبور ہیں۔آج جمعہ کی چھٹی ہے کل کاموں پر حاضر ہونا ہے تو ان کی سہولت کی خاطر نمازیں جمع کی جائیں گی۔اس کے معا بعد ایسے احباب کی خاطر جو بعد میں تشریف لائے اور بیعت نہیں کر سکے یہاں اجتماعی بیعت ہوگی۔اس سلسلہ میں ایک بات میں ابھی کہہ دینا چاہتا ہوں کیونکہ جب ایک دفعہ رش شروع ہو جائے تو پھر کنٹرول کرنا مشکل ہو جایا کرتا ہے۔اس وقت آپ سہولت اور امن سے میری بات سن لیں۔غور سے صفیں بنا کر جس طرح آپ سلام پھیریں گے اسی طرح بیٹھے رہیں۔اس حالت میں کوئی تبدیلی نہ کریں۔اٹھ کر دوڑنے کی کوشش ہنگامہ کرنے کی کوشش بالکل نہیں کرنی۔کامل نظم وضبط کا ثبوت دیں۔صفوں میں اسی طرح بیٹھے رہیں۔ہاں آگے جھک کر اپنے سے اگلے نمازی کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ لیں ، یہ نشان کے طور پر کہ میں اس کے ذریعے اس رابطہ سے جسمانی رابطہ بھی بیعت کا حاصل کر رہا ہوں۔اور نہایت اطمینان سے وہیں بیٹھے رہیں۔جب دعا ہو جائے پھر اس کے بعد رخصت ہوں۔اور دوسرے یہ عادت ڈالیں کہ سوائے اشد مجبوری کے نماز کے بعد بھی مسجد میں آپس میں باتیں نہ شروع کیا کریں۔اب دوست نماز کے لئے صفیں بنالیں۔روزنامه الفضل ربوه ۲۲ جون ۱۹۸۲ء)