خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 79 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 79

خطبات ناصر جلد نهم و خدا کے حکم کی اطاعت کرو گے تو مقصد حیات کو پالو گے خطبه جمعه فرموده یکم مئی ۱۹۸۱ء بمقام مسجد احمد یہ۔اسلام آباد خطبه جمعه یکم مئی ۱۹۸۱ء تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا :۔ایک بڑے ہی اہم اور ایک لمبے مضمون کی تمہید آج کل میں بیان کر رہا ہوں۔آج بھی تمہید ہی کے متعلق چند باتیں میں کہوں گا۔انشاء اللہ اگلا جمعہ ارادہ ہے ربوہ میں پڑھاؤں۔اس کے بعد چند دنوں کے بعد پھر واپس یہاں آنے کا ارادہ ہے۔واللہ اعلم جو اللہ چاہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَرَبُّكَ يَعْلَمُ مَا تُكِن صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ - وَهُوَ اللهُ لا إلهَ إِلا هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الأولى وَالْآخِرَةِ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ - (القصص: ۷۱،۷۰) یہ سورہ قصص کی دو آیات ہیں۔پہلی آیت کا تعلق اس مخلوق سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آزادی دی ایک خاص دائرہ کے اندر اور روحانی طور پر ترقیات کی بڑی راہیں اس پر کھولیں اور اس کے لئے یہ ممکن بنادیا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی ہدایت پر عمل کرے تو وہ اس کی رضا کی جنتوں کو حاصل کر سکتا اور ابدی رضا اور رحمت کے سایہ میں اُخروی زندگی کو گزار سکتا ہے۔چونکہ آزادی ہے اس لئے تین چیزیں انسانی زندگی میں ابھریں ایک ایمان حقیقی۔ایک انکار واضح اور ایک نفاق کہ اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ۔تو ظاہر کو بھی اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور جو چیز انسان انسان سے چھپاتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے وہ چیز چھپ نہیں سکتی وہ اسے بھی جانتا ہے۔