خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 57 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 57

خطبات ناصر جلد نہم ۵۷ خطبه جمعه ۲۰ مارچ ۱۹۸۱ء اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ خدا سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رکھی جاسکتی۔اس واسطے ہر کام میں خلوص نیت کا ہونا ضروری ہے۔انسان انسان کو دھوکہ دے سکتا ہے۔انسان اپنے پیدا کرنے والے رب کریم کو دھوکہ نہیں دے سکتا۔اور دوسری شق یہاں یہ بتائی کہ وہ جو ایمان لائے اور اس کے مطابق انہوں نے اعمالِ صالحہ کئے اور ان روحانی اور اخلاقی تدابیر کے بعد انہوں نے یہ سمجھا کہ محض ہماری کوشش کافی نہیں جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہمارے اعمال کے ساتھ شامل نہ ہو اور انہوں نے دعا کی کہ اے خدا! ہزار کیڑے ہیں ہمارے اعمال میں، تو ان کیڑوں کو قتل کر دے۔ہزار کمزوریاں ہیں ہمارے افعال میں اور نیکیوں میں، وہ بھی جو ہم جانتے ہیں اور وہ بھی جو ہم نہیں جانتے ، تو ایسا کر کہ ہمارے اعمال تیری نگاہ میں مقبول ہو جا ئیں۔تو يَسْتَجِيبُ وہ دعا کرتے ہیں خالی ایمان اور عمل صالح کو کافی نہیں سمجھتے۔وہ دعا کرتے ہیں اور دعا کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو اور ان کے اعتقادات صحیحہ کو قبول کر لیتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ کافی نہیں ہے۔اس مقام کے حصول کے لئے جس مقام پر اللہ تعالیٰ لے جانا چاہتا ہے یعنی آسمانی رفعتوں کی طرف اللہ تعالیٰ ساتویں آسمان تک پہنچانا چاہتا ہے مسلمان کو۔اس کا ایمان باوجود پختہ ہونے کے اور اعتقادات صحیحہ ہونے کے اور اس کی کوشش اعمالِ صالحہ کی ہے اور اعمالِ صالحہ وہ بجالا رہا ہے اپنی طرف سے یہ کافی نہیں۔وہ دعا مانگتا ہے کہ اے خدا ! میرے اعتقادات میں، میری سمجھ میں اگر کوئی خامی ہے تو اسے نظر انداز کر دے اور اگر کوئی کمزوری ہے میرے اعمالِ صالحہ میں تو اسے ڈھانپ دے مغفرت کی چادر میں اور دعا کرتا ہے خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت کو جذب کرنے کے لئے اور اس کے فضل اور رحمت کو جذب کر لیتا ہے اور اس کے اعمال مقبول ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مقبول اعمال کے باوجود پھر بھی کچھ کمی رہ گئی۔وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ ان اعمال مقبول سے کچھ زائد دیتا ہے اللہ تعالی۔تب جا کے مقصود حاصل ہوتا ہے یعنی حسنات جو ہیں وہ جتنی ستیات مٹا چکیں اس سے زیادہ سیئات کو مٹانے کی ضرورت ہے اور خدا تعالیٰ تو بہ کو قبول کرتا اور جتنی حسنات جس قدر سیئات مٹاسکی تھیں اس سے باقی جو رہ گئیں وہ تو بہ کے ذریعے مٹادی جاتی ہیں اور