خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 498 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 498

خطبات ناصر جلد نہم ۴۹۸ خطبه جمعه ۱۴ رمئی ۱۹۸۲ء دوسرا جہاد جو بیان ہوا وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کو جب ایک مومن ، ایک مسلم ، ایک مقرب الہبی خدا تعالیٰ کی رحمتوں اور فضلوں کو حاصل کرنے والا مسلمان دیکھتا ہے تو اس بات پر خوش نہیں ہوتا کہ مجھے ملیں اور دوسرے کو نہیں ملیں بلکہ اس بات پر رنجیدہ ہوتا ہے کہ جو لوگ دائرہ اسلام سے باہر ہیں، وہ خدا تعالیٰ کے ان فضلوں اور خدا تعالیٰ کی ان رحمتوں سے، اپنی بداعمالیوں کے نتیجہ میں، اپنی جہالت کے نتیجہ میں، اپنے تعصب کے نتیجہ میں ، اپنے تکبر کے نتیجہ میں محروم ہو رہے ہیں اور اس کے دل میں یہ جوش ہوتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی اس حسین تعلیم کو ان تک پہنچائے اور اسلامی تعلیم کو دنیا کے کناروں تک ہر قوم اور ہر خطہ تک پہنچانے میں اپنی قوت اور اپنا وقت اور اپنا مال اور دولت خرچ کرنے کی خواہش رکھتا ہو اور جب موقع ملے وہ ایسا کرے بھی۔پس یہ جو اشاعت حسن اسلام ہے، جسے تبلیغ بھی کہتے ہیں۔جسے ہم تربیت کا نام بھی دیتے ہیں اس دائرہ کے اندر رَحْمَةٌ لِلعلمین کی رو سے سارے عالم کو شامل کرنا اور پھر جہاد کرنا جاهِدُوا فِي اللهِ حَقَّ جِهَادِہ یہ جہاد کا حق اس طرح ادا ہوتا ہے اس دائرہ میں۔اور تیسرے معنی یہ ہیں کہ جو صداقت ہے اور حق ہے۔اگر حق وصداقت کا مخالف حق کو مٹانے یا کمزور کرنے کے لئے منصوبہ بنائے تو اس منصوبہ کو نا کام کرنے کے لئے ہرممکن کوشش کر دی جائے۔یہ تیسری قسم کا جہاد ہے۔پس جاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِہ میں یہ سارے شامل ہو گئے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم حقوق اللہ ادا کرو گے ، حقوق العباد ادا کرو گے ، اگر تم ہر ایک سے بھلائی کرو گے، اگر تم جہاد ہر سہ معنی میں کرو گے تو تم قرب الہی حاصل کرو گے۔هُوَ اجْتَبكُمُ خدا تعالیٰ کے مقرب بن جاؤ گے اور جس شخص میں یہ ساری باتیں پائی جائیں اللہ تعالیٰ کے نزد یک۔دعوی کرنا آسان ہے عمل کرنا بھی اتنا مشکل نہیں لیکن مقبول اعمال کا ہونا، یہ انسان کی طاقت میں نہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت پر منحصر ہے۔وہ جن کے اعمال کو اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور ان کو اپنا مقرب بنالیتا ہے هُوَ اجتَبكُم۔آگے فرما یاسمكُمُ الْمُسْلِمِینَ تمہیں اس