خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 492
خطبات ناصر جلد نهم ۴۹۲ خطبہ جمعہ کے رمئی ۱۹۸۲ء ایک بیماری کی خاطر پر ہیز کرنا۔کھانے کی شکل بدل جاتی ہے، اس کی مقدار بدل جاتی ہے، آج کی زبان میں Calories ( کیلریز ) بہت ساری کم ہو جاتی ہیں۔تو یہ قریباً سارا ہفتہ ہی بیماری میں گزرا غالباً اتوار یا ہفتے کی شام سے یہ کیفیت شروع ہوئی تھی۔کل قریباً آرام آ گیا۔اب بھی ہلکی سی سوزش باقی ہے لیکن ضعف ہے اس لئے میں اراد تا بہت ہی مختصر خطبہ دے رہا ہوں۔ویسے بھی میں نے جب یہ ارادہ کیا تو مجھے خیال آیا کہ جب میں گرمی میں جمعہ کا خطبہ نہیں دے سکتا، تو میں ہدایت دیا کرتا ہوں کہ دس پندرہ منٹ سے زیادہ خطبہ نہ دوں، تکلیف ہوتی ہے۔تو جس حد تک ممکن ہو مجھے بھی اس پر عمل کرنا چاہیے۔جس حد تک ممکن ہو، میں نے اس لئے کہا کہ خلیفہ وقت کے سامنے بعض ایسے معاملات آجاتے ہیں جس میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ خواہ جماعت کو یا خود اسے گرمی کے ایام میں گرمی کی تکلیف محسوس ہو رہی ہو تب بھی یہ تکلیف برداشت کر کے ان باتوں کو کہا جائے اور سنا جائے لیکن آج تو بوجہ کمزوری اور بیماری کے (اور گرمی خود میری بیماری ہے اس کی وجہ سے میں ) اور زیادہ بیمار ہو کر کام کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔دعا کریں اللہ تعالیٰ فضل کرے اور بیماری کی کیفیت جو ہے وہ دور ہو جائے اور اللہ تعالیٰ مجھے پھر سے پورے طور پر کام کرنے کی توفیق عطا کرے۔آمین ویسے بیماری میں میں اس طرح آرام کرتا رہا ہوں کہ کئی دنوں کی ڈاک ہزاروں کی تعداد میں آجاتی تھی میرے سامنے ( کمرے میں بیٹھا رہتا تھا نا ، خالی تو میں نہیں بیٹھ سکتا ) تو وہ ساری نکال دی اور کل یا پرسوں شام کو، کوئی بقا یا نہیں تھا ڈاک کا۔روز کی روز ڈاک کل سے آنی شروع ہوگئی ہے لیکن یہ میرے آرام کا ہی حصہ ہے کیونکہ خالی بیٹھنا میرے لئے ممکن نہیں۔میں بیمار بھی پڑ جاؤں تو ایک دن کے بعد اداس ہو جاتا ہوں لیٹے ہوئے۔تو دعا کریں کہ اس قسم کی اداسی مجھے نہ ملے۔میں خوشی خوشی آپ کی خدمت میں لگا رہوں ہر وقت اور دعا کریں کہ آپ میں بھی یہ احساس زندہ رہے ہمیشہ اور پوری شدت کے ساتھ کہ ایک احمدی کی زندگی کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں ہونا چاہیے۔جو وقت ملتا ہے آپ کو گھر میں ، بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے مثلاً کہ آپ نے نماز کے لئے جانا ہے اپنے محلے کی مسجد میں اور آپ تیار ہو گئے ہیں اذان سے پانچ منٹ پہلے اور میرا اندازہ