خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 482
خطبات ناصر جلد نهم ۴۸۲ خطبه جمعه ۱/۳۰ پریل ۱۹۸۲ء بھی کی جاتی ہیں یا دور کرنے کے لئے کوشش کی جاتی ہے۔الجھنوں کو جب دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو الجھن دور بھی ہو جاتی ہے اور نئی الجھنیں پیدا بھی ہوسکتی ہیں اور بسا اوقات پیدا بھی ہو جاتی ہیں۔اس وقت اس وجہ سے اس نظام کے متعلق جماعت کو ہر آن چوکس اور بیدار رہنے کی ضرورت ہے مثلاً عورت کی وصیت۔ایک وقت میں جماعت نے محسوس کیا کہ اچھے کھاتے پیتے دولت مند امیر خاوند بتیس روپے مہر رکھ کر جو کسی وقت سمجھا جاتا تھا اسلامی مہر یا ایک ہزار مہر رکھ کر اس کو اُس دولت سے محروم کر دیتے تھے جس کی وہ مستحق تھی اور جو اسے ملنی چاہیے تھی۔اس واسطے جماعت نے یہ ایک روایت قائم کی کہ کم سے کم اپنی سالانہ آمد کا پچاس فیصد یعنی چھ ماہ کی آمد مہر رکھو۔بعض لوگ اس کے برعکس دس سال یا بیس سال کی جو آمد ہے وہ رقم مہر میں رکھ دیتے تھے اور نیت یہ ہوتی تھی کہ دوں گا نہیں۔اور اگر بیوی مطالبہ کرے گی تو پیسے دینے کی بجائے اس کو چپیڑ لگا دوں گا کہ میرے سامنے بولتی ہے تو۔ایک اور فتنہ تو مہر کا تھوڑا ہونا یا بہت ہونا اور صرف مہر کے اوپر وصیت کا قائم کر دینا عقلاً اور جو قربانی کی روح ہے اور جو نظامِ وصیت کی روح ہے وہ جائز نہیں۔جب میری پہلی شادی ہوئی تو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک ہزار مہر رکھا۔جب حالات سے مجبور ہو کر مجھے دوسری شادی کرنی پڑی تو میرے جذبات نے یہ تقاضا کیا کہ میں ایک ہزار سے زیادہ مہر نہ رکھوں۔بعض جگہ شیطانی وسوسہ یہ پیدا ہوا کہ اتنا تھوڑا مہر رکھ کر وصیت کے نظام میں آپ نے خلل ڈال دیا۔وصیت کے نظام کا مہر کے ساتھ کیا تعلق۔منصورہ بیگم کا مہر تھا ایک ہزار اور ان کی وصیت کی ادا ئیگی جس میں اُلجھن کو ئی نہیں تھی۔صاف تشخیص ہو سکتی تھی اس لحاظ سے اٹھاون ہزار سے زیادہ رقم انہی کی جائیداد میں سے ہم ادا کر چکے ہیں۔تو مہر کا ایک ہزار روپے ہونا ان کے مالی قربانی کرنے کے راستہ میں تو روک نہیں بنا اور میرا خیال ہے کہ ایک زمین ہے پہلے مقدمہ تھا اس کے اوپر وہ مقدمہ تو حق میں ہو گیا لیکن بعض اور الجھنیں دور ہونے والی ہیں۔انشاء اللہ وہ جلد ہی دور ہو جائیں گی۔تو شاید اس کا حصہ وصیت کا منصورہ بیگم نے ۱۱۷ کی وصیت کی ہوئی تھی تو وہ ستر یا پچھتر یا اسی ہزار روپیہ اور انہی کی جائیداد