خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 461 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 461

خطبات ناصر جلد نهم ۴۶۱ خطبہ جمعہ ۱٫۹ پریل ۱۹۸۲ء پایا۔یہی کام ہے ایک دوسرے کا۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ مجھ سے غلطی نہیں ہوئی ہوگی اور انہوں نے بھی مجھ سے ایسی ہی تسکین حاصل کی ہوگی۔موَدَّةً۔یہ اس قسم کی محبت نہیں بلکہ یہ وہ محبت ہے جو باہمی موڈت مل کے خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والی ہے۔اس گاڑی کی طرح جس کو دو گھوڑے جتے ہوئے ہوں۔اب تو ایسے کم نظر آتے ہیں۔کسی زمانہ میں دو گھوڑوں کی گاڑیاں ہوتی تھیں۔دو گھوڑے مل کر ایک خاص جہت کی طرف سفر کیا کرتے تھے تو پیار کے ساتھ خدا تعالیٰ کی عطا کردہ رفعتوں کے حصول کے لئے ایک جہت کو دوڑنے والے۔ایک مرکزی نقطہ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف چلنے والی موڈت پیدا ہوگی۔اور رَحِمَ - رَحِمَهُ رَحْبًا کے عربی زبان میں معنی ہیں رَقٌ لَهُ وَ شَفِقَ عَلَيْهِ وَتَعَطَّفَ وَغَفرله ایک دوسرے کے لئے رقیق ہونا، شفیق ہونا جس کے معنی ہیں ایک دوسرے کی خیر اور بھلائی کے لئے حریص ہونا عربی میں شَفقَ عَلَيْهِ کے معنی ہیں۔حِرْصُ عَلَى خَيْرِهِ وَ إِصْلَاحِهِ اور ایک دوسرے سے احسان کا سلوک کرتے رہنا۔یہ ہے مرد اور عورت کا تعلق ، صرف وہ تعلق نہیں جو جانوروں کے درمیان ، نر اور مادہ کے درمیان ہوتا ہے جیسا کہ آج کی بہکی ہوئی دنیا میں تو یہ خیل کہیں پاس بھی نہیں پھٹکا کہ عورت کا مقام مرد کے ساتھ ازدواجی رشتے میں کیا ہے۔یہ لوگ اخلاقی لحاظ سے اس حد تک گر گئے ہیں کہ بہت سے لوگ میں سفر کرتا ہوں مجھ سے بھی ملتے ہیں۔مرد اور عورت نکاح کئے بغیر یعنی قانونی بندھنوں کے بغیر میاں بیوی کی زندگی گزار رہے ہیں۔بچے بھی پیدا کر رہے ہیں۔کہتے ہیں ہم نے نکاح نہیں کرنا یا قانون کے مطابق اپنے آپ کو میاں بیوی رجسٹر نہیں کروانا کیونکہ بہت ساری قانونی الجھنیں ہیں یا ذمہ داریاں ہیں جن کو نہ باپ، نہ ماں، نہ خاوند نہ بیوی ادا کرنا چاہتے ہیں۔اس حد تک گر چکے ہیں۔یہ شہوات نفسانی کی تصویر ہے یہاں دوسری جگہ ہے کہ پیار ہے، ایک گھناؤنا پیار، ایک گندا پیار، ایک مہلک پیار، ایک پیار جو اگلی نسل کو ہلاک کر دینے والا ہے یعنی وہ بچہ جو بڑے ہو کر یہ سمجھے کہ قانونانہ میرا کوئی باپ ہے نہ میری کوئی ماں۔کیا ہو گا اس کا حال ؟ ہورہا ہے۔