خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 460 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 460

خطبات ناصر جلد نہم ۴۶۰ خطبہ جمعہ ۱٫۹ پریل ۱۹۸۲ء ان دو آیتوں میں شیطانی ہدایت کے مطابق شہوات نفسانی کی راہوں پر چل کر زندگی گزار نے والے اور خدا تعالیٰ کی بات قبول کر کے اور وہ جو مانگتا ہے وہ دے کر ، جو وہ چاہتا ہے وہ کر کے۔جن راہوں کو وہ منور کرتا ہے ان کو اختیار کر کے۔جن راستوں پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش نظر آتے ہیں، ان نقوش کے پیچھے روانہ ہوکر اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر لیتا ہے۔اس میں بہت ساری چیزیں آئی تھیں یعنی ساری زندگی جو ہے وہ اس کے اندر آ جاتی ہے۔اس کے اندر عورت سے پیار، بچوں سے محبت، دولت سے عشق اور جو ذرائع پیداوار ہیں ان پر فدا ہوجانا اور خدا کو بھول جانا اور اپنی ذمہ داریوں کو فراموش کر دینا۔ان میں ایک چیز کا دونوں جگہ ذکر ہے اور وہ ہے حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ یعنی شہوات نفسانی سے پیار اس کے نتیجہ میں نساء سے عورت سے صرف شہوت کے لحاظ سے پیار اور دوسرے اس کے مقابلہ پر رکھا تھا پاک ازواج اور ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ مِنْ ايَتِه أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ اَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً (الروم : ۲۲) اور اس کے نشانوں میں سے ایک یہ نشان بھی ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس میں سے تمہارے لئے جوڑے بنائے ہیں جو ایک دوسرے کو سمجھنے والے، جو ایک دوسرے کو پہچاننے والے، جو ایک دوسرے کے لئے قربانی کرنے والے، جو ایک دوسرے پر توجہ دے کر اپنے رب کے پیار کو حاصل کرنے والے (جیسا کہ اس کا ذکر بہت جگہ آیا ہے ) تمہارے لئے جوڑے بنائے ہیں۔تم ایک دوسرے سے تسکین حاصل کرو۔یہاں تین باتیں بیان ہوئی ہیں۔تسکین حاصل کرو۔اس کے معنے عربی میں ہیں گھبراہٹ اور بے چینی اور اضطراب اور قلق دور ہو جائے اور سکون اور اطمینان اور طمانینہ تمہیں حاصل ہو اور تمہارے درمیان پیار پیدا ہوا اور رحم کا رشتہ پیدا کیا جائے۔اب میں نے آپ کو بتایا جب منصورہ بیگم کی وفات کے بعد کہ اس طرح میرے ساتھ انہوں نے زندگی گزاری کہ مجھے بے فکر کر دیا ہر چیز سے تا کہ میں اپنی پوری توجہ اور وقت دین کے کاموں میں خرچ کروں۔لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا ان سے میں نے یہ سکینت اور طمانینہ اور اطمینان