خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 23
خطبات ناصر جلد نهم ۲۳ خطبه جمعه ۳۰ / جنوری ۱۹۸۱ء Strikes ناکام ہو گئے ہو اسے حل کرنے میں اور قرآن نے اسے حل کیا ہے۔مثلاً اب بھی وہاں بڑی سٹرائیکس ) ہو رہی ہیں آج کل بھی سٹرائیکس ہوتی ہیں۔سٹرائیک ہوتی ہیں مزدور بعض دفعہ in millions یعنی ۳۰ ۴۰لاکھ ۷۰ ۸۰ لاکھ بعض دفعہ ایک کروڑ سے بھی زیادہ مزدور اس لئے کام چھوڑتا ہے، سٹرائیک کرتا ہے تا کہ اسے اس کے مطالبہ کے مطابق حقوق ادا کئے جائیں لیکن بیچارے مزدور کو یہ علم نہیں کہ اس کے حقوق کیا ہیں۔یعنی یہ پریس کانفرنس میں میں نے ان کو بتایا کہ دیکھو! تمہارا مزدور سٹرائیک کرتا ہے۔ملک کی اقتصادیات پر بڑا برا اثر ہوتا ہے۔پھر تم کچھ Resist کرتے ہو کئی دن یا دو چار ہفتے۔تو جو انتظامیہ ہے وہ کہتی ہے اچھا پھر یہ بات ہے تو تمہیں روزانہ کی روزی جو ہے تمہاری اجرت اس سے بھی محروم ہو ر ہے تم۔دیکھیں گے کب تک کرتے ہو۔بہر حال کچھ عرصہ یہ جنگ رہتی ہے۔پھر دونوں طرفیں تھک جاتی ہیں پھر وہ اس کا مطالبہ تھا ، ۳ پونڈ مہینہ اجرت میں زیادتی کی جائے ، گفت وشنید کے بعد فیصلہ ہوتا ہے نہیں ۳۰ پونڈ نہیں ۲۰ پونڈ اجرت میں زیادتی کر دیتے ہیں۔میں نے کہا وہ تو نہ اس کو پتہ کہ مجھے کیا چاہیے نہ ان کو پتہ میرے اوپر کیا ذمہ داری ہے، ان کے حقوق کیا ہیں جو مجھے ادا کرنے چاہئیں۔لینے والے کو حق کا نہیں پتہ جو وہ لے، دینے والے کو مزدور کے حق کا نہیں پتہ جو وہ ادا کرے۔اسلام کہتا ہے یہ حق ہے مزدور کا۔اس دفعہ دو جگہ میں نے ان کو یہ ایسی مثال دے کے جوان کے معاشرہ کا مسئلہ تھا میں نے کہا قرآن کریم حل کر سکتا ہے تم نہیں حل کر سکتے۔پھر میں نے ان کو بتایا یہی مسئلہ کہ قرآن کریم نے اس طرح حل کیا ہے لیکن اس سے پہلے میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔میں نے پہلے کہہ دیا کہ میں تمہیں بتانے لگا ہوں کہ قرآن کریم نے یہ حل اس کا پیش کیا اور پہلے تمہیں کہتا ہوں کہ تم میں سے کسی کو جرات نہیں ہوگی جو یہ کہے کہ ہمیں قرآن کریم کا بتایا ہوا حل منظور نہیں اور نہیں ہوئی جرات میری بات سننے کے بعد۔میں نے انہیں کہا کہ دیکھو ! مزدور کو یہ پتہ ہی نہیں اس کا حق کیا ہے؟ قرآن کریم نے یہ کہا کہ ہر فرد جو اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے۔اس کی تمام قوتیں اور طاقتیں اور استعداد میں خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ ہیں۔جب خدا تعالیٰ نے یہ صلاحیتیں پیدا کیں ایک بچے میں تو خدا تعالیٰ کی منشا یہ ہے کہ