خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 351 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 351

خطبات ناصر جلد نهم ۳۵۱ خطبه جمعه ۴/دسمبر ۱۹۸۱ء ہو بات لیکن کبھی ذکر نہیں کیا اور چھپایا ہوا تھا۔جب کہیں سے کوئی آمد ہوتی مثلاً زمین کی آمد ہوگئی یا اور کچھ حصے میں نے ہی مہر میں دے دیئے تھے شوگر مل کے ، وہ تھوڑی سی آمد ہو گئی۔پہلا کام کرتی تھیں کہ اپنی وصیت ادا کر دیں لیکن مجھے نہیں دیتی تھیں کیونکہ مجھے پتہ لگ جائے گا کہ ۱۱۷ کی ہے۔تو ایک اور شخص تھا جس کے سپرد یہ ڈیوٹی لگائی ہوئی تھی۔میں کہتا بھی بعض دفعہ کہ مجھے دیدیں دفتر میں جمع کروا دتیا ہوں مگر مجھے کہتیں کہ فلاں شخص نہیں آرہا۔میں نے اپنی وصیت ادا کرنی ہے مجھے دے دو میں دفتر کو دے کر ابھی بھجوا دیتا ہوں کہ نہیں میں تو اسی کے ہاتھ بھجواؤں گی اور آج پتہ لگا کہ کیوں کہ رہی تھیں۔یہ نہیں ظاہر ہونے دینا چاہتی تھیں کہ ۱۱۷ کی وصیت ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ فضل کیا کہ جو بغیر جھگڑے کے چھوڑا پیچھے مال اُس کی وصیت کا انتظام خود ہی اس طرح کیا ہوا تھا کہ رقم جمع تھی اس میں سے ۳۱ ہزار کے قریب رقم وصیت کی دے دی جو زمین تھوڑی سی ہے سندھ میں۔میں نے تاکید کی ہے کہ ۳ مہینے کے اندر اندر اس کی قیمت ڈلوا کے بتا ئیں جتنی بنے گی وہ بھی ادا ہو جائے گی انہی کے پیسوں سے ادا ہو جائے گی اور کچھ ایسی زمین ہے جن پر مقدمے چل رہے ہیں یا مشترکہ ہے۔ابھی فیصلہ نہیں ہوا کس کے حصہ میں کیا ملنا ہے لیکن وہ وصیت بھی کی۔اللہ تعالیٰ نے سامان بھی پیدا کر دیا کہ جو چیز بالکل واضح طور پر بغیر کسی جھگڑے کے تھی اس کی وصیت ۳۱ ہزار روپے بڑی تھوڑی ہے چیز یعنی خدا تعالیٰ کو دینے کے لئے ساری دنیا دے دیں تب بھی تھوڑی ہے لیکن بہر حال اس کا سامان بھی خدا تعالیٰ نے کر دیا کہ مرنے والی پر کسی کا یہ احسان نہ ہو صدرانجمن احمدیہ کا یا کسی کا کہ ہم نے دو ہفتے کے بعد پیسے وصول کئے۔مجھے کہا بھی کہ کل ہو جائے گا میں نے کہا بالکل نہیں۔وصیت کی فائل میرے پاس آنے سے پہلے یہ رقم ادا ہونی چاہیے۔میں نے کاغذ سارے دے دیئے حساب کر کے وہ ساری رقم ادا ہوگئی۔نمائش اور دکھا وا بالکل نہیں تھا طبیعت میں اور اتنا اثر۔میرے ساتھ سات دوروں پر رہی ہیں۔میں صبح سوچ رہا تھا کہ پچھلے سال جب بنیاد رکھی گئی سپین کی مسجد کی تو پیڈ رو آباد کے قریباً سارے بچے اور عورتیں ان کی واقف ہوئیں۔پاس بیٹھیں کوئی آدھا گھنٹہ کوئی گھنٹہ۔اب انشاءاللہ افتتاح جب ہوگا مسجد کا تو یاد کریں گی ان کو لیکن اس لئے نہیں انہوں نے ان کے ساتھ پیار اور