خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 19 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 19

خطبات ناصر جلد نهم ۱۹ خطبه جمعه ۳۰/ جنوری ۱۹۸۱ء موتی پروئے ہوئے ہوتے ہیں اس طرح وہ حروف تمہارے آپ پڑھتے ہوئے تمہارے ذہن میں حاضر ہوں اور دوسروں کو سناتے ہوئے قرآن کریم اس طرح وہ تمہارے سامنے ہو۔جماعت احمد یہ چونکہ عظمت قرآن کریم کو علی وجہ البصیرت سمجھتی ہے اس لئے عام طور پر کہیں غلطی کرتی ہوگی اور اسی کی اصلاح کے لئے آج میں نے یہ بات چھیڑی ہے، قرآن کریم کی تلاوت پڑھنے یا سنانے کے لئے اس طرح نہیں کرتی کہ جس طرح حروف کا پتہ ہی نہ لگے اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد کوئی ایک آدھ لفظ سمجھ آجائے سننے والے کو اور باقی سب غائب ہو جائیں اس کے اندر۔قرآن کریم نے کھول کر یہ بیان کیا وَ قُرْآنًا فَرَقْنَهُ ہم نے اسے قرآن بنایا ہے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کیا ہے اور آیت آیت اور سورۃ سورۃ کی شکل میں اسے محفوظ کیا ہے لتقران على النَّاسِ تاکہ تم لوگوں کے سامنے اسے پڑھ کر سناؤ۔النَّاس کے معنے عربی زبان میں نوع انسانی کا ہر فرد مرد ہو یا عورت ہے کیونکہ الناس کے معنے میں مردوزن دونوں آتے ہیں اور اللہ کیس کے معنے نوع انسانی ہے، مسلم ہو یا غیر مسلم۔لِتَقْرَآهُ عَلَى النَّاسِ تم اسے سناؤ دوسروں کو لیکن سناؤ اس طرح کہ جس طرح آیت آیت نازل ہوئی ہے آہستہ آہستہ، نرمی کے ساتھ اور ٹھہر ٹھہر کے اور عجلت کی راہوں کو اختیار نہ کرتے ہوئے ، ایک ایک حرف ان کے سامنے آتا چلا جائے تاکہ ان کو سوچنے کا بھی وقت ملے سنتے ہوئے۔لِتَقْرَآهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَنَزَّلْنَهُ تَنْزِيلًا (بنی اسراءیل: ۱۰۷) امام رازی نے اس کے معنے یہ کئے ہیں کہ تھوڑا تھوڑا کر کے اس لئے نازل کیا (۱)۔تمہارے لئے یاد کرنا سہل ہو۔سننے والے کے لئے یاد کرنا سہل ہو۔یعنی اگر جلدی سے گزر جاؤ گے تو کوئی بات ایک کے بعد دوسری، دوسری کے بعد تیسری، تیسری کے بعد چوتھا نکتہ اس کے سامنے آئے گا تو اس کا حافظہ ان عظیم باتوں کو جو قرآن کریم بیان کر رہا ہے اور ان روحانی اسرار کو سنے گا تو سہی لیکن ان کو یاد نہیں رکھے گا۔اس واسطے آہستہ آہستہ اسے پڑھ کر سناؤ تا کہ یاد کرنا سہل ہو اور یا درکھنا سہل ہو۔دوسرے اس لئے کہ تا کہ انسان جب آہستہ آہستہ رفق کے ساتھ (مکث کے معنے کئے گئے ہیں رفق ) اور نرمی کے ساتھ اور عجلت نہ کرتے ہوئے قرآن کریم کو غور سے پڑھے گا تو قرآن کریم