خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 239 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 239

خطبات ناصر جلد نهم ۲۳۹ خطبه جمعه ۲۸/اگست ۱۹۸۱ء آنے والی نسل، نئی ابھرنے والی نسل دنیا کے نئے مسائل کو حل کرنے کی ذمہ داری اٹھانے والی نسل ہو اور دین اسلام کی عظمتوں اور اس کی خوبیوں اور اس کے حسن اور اس کے نور اور اس کی ہدایت کی جو مختلف شاخیں ہیں ان کا اس کو علم ہو۔یہ جو Change ( چینج) اور تبدیلی ہے نوجوان نسلوں میں، یہ ہمیشہ بہتری کی طرف حرکت نہیں کر رہی ہوتی بلکہ بسا اوقات تنزل کی طرف کر رہی ہوتی ہے۔مثلاً اسلام نے توحید پر، خدا تعالیٰ کے واحد و یگانہ ہونے پر اور خدا تعالیٰ کی ذات وصفات پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے لیکن اگر نئی نسلوں کو صحیح طور پر سنبھالا نہ جائے تو وہ توحید سے پرے ہٹ جاتی ہیں۔توحید سے پرے ہٹنا تو اتنی بے وقوفی ہے کہ اس سے زیادہ میرے نزدیک کوئی حماقت نہیں ہوسکتی کیونکہ جتنا سوچا میں نے اور جتنا سوچا ساری دنیا کے سائنس دانوں نے ، وہ اس نتیجہ پر پہنچے (اور جو نہیں پہنچے تھے وہ اب پہنچ رہے ہیں) کہ خدائے واحد ویگانہ اور اس کی عظمتوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ایک اندھیرے کا زمانہ آیا تھا درمیان میں لیکن اب آہستہ آہستہ روشنی پیدا ہورہی ہے۔اس لئے ضروری ہوا کہ ہم گاہے گاہے دوستوں کے سامنے جو بنیادی تعلیم ہے اسلام کی ، اس کا ذکر کرتے رہیں اور یہی مضمون اس خطبہ کے لئے میں نے چنا ہے اور تین باتیں میں اس وقت بیان کروں گا۔(۱) اللہ کے متعلق (۲) قرآن عظیم کے متعلق (۳) اور محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ کے متعلق ہمارا عقیدہ ( میں ہمارا جب کہتا ہوں تو اس سے مرادساری جماعت ہے کیونکہ جماعت اور جماعت کے امام میں کوئی فرق نہیں ) یہ ہے کہ اللہ واحد و یگانہ ہے۔لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ (الشوری:۱۲) اس کی مثل اس کائنات میں نہ کوئی تھی ، نہ ہے ، نہ ہوسکتی ہے لیکن بعض لوگ شبہ میں پڑ جاتے ہیں کیونکہ انسان کو اللہ کا عبد بننے کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور اس سے یہ امید رکھی گئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے اپنے اندر پیدا کرے گا اور خدا تعالیٰ کے