خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 183
خطبات ناصر جلد نهم ۱۸۳ خطبہ جمعہ ۱۰ جولائی ۱۹۸۱ء Mind کی عقل کی علم میں جو گھن لگ جاتا ہے وہ تمام بیماریوں کی دوا ہم نے اس کے اندر رکھی ہے اور یہ ایک فلسفہ نہیں۔یہ احمدیوں کو یا درکھنا چاہیے۔کیونکہ اس کے بغیر ہم عملی زندگی میں خدا تعالیٰ کی رحمتوں کو حاصل نہیں کر سکتے۔یہ محض ایک علمی مسئلہ نہیں۔نہ یہ کوئی فلسفہ ہے بلکہ پہلوں کو چھوڑو۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد لاکھوں کروڑوں وہ پیدا ہوئے جنہوں نے قرآن کریم پر عمل کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کو پایا اور اللہ تعالیٰ پیار سے ان کے ساتھ ہمکلام ہوا اور ان کا دوست بنا۔دوست بنا میں نے کہا اس لئے کہ قرآن کریم کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ دوست بن جاتا ہے لیکن کہاں انسان اور کیا حیثیت انسان کی اور کہاں خدا اور اس کی بزرگی اور عظمت اور علو اور کبریائی لیکن یہ اس کا فضل اور رحمت ہے کہ وہ اپنے حقیر بندہ کو کہتا ہے کہ میں تیرا۔دوست بن جاؤں گا اگر تو میرے احکام پر چلے گا اور لاکھوں کروڑوں نے اپنی عملی زندگی میں اس کا تجربہ حاصل کیا اور سب سے بڑی دلیل ان لوگوں کی زندگیاں دہریت کے خلاف ہیں یعنی جو خدا تعالیٰ کا انکار کرتے ہیں ساری تاریخ انسانی سے وہ انکار کر رہے ہیں۔بہر حال ایک چیز جو ہمیں قرآن کریم دیتا ہے اور رمضان میں خاص طور پر اس طرف توجہ کر کے ہمیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے وہ اللہ تعالیٰ کا پیار اور سینے کی ہر قسم کی بیماریوں سے شفاء کا حصول ہے۔ہدایت کے ، قرآن کریم نے اس لفظ کو ، یعنی رہنمائی کرنا سیدھا راستہ دکھانا جو کامیابی کی طرف لے جانے والا ہے۔کس کام میں کامیابی؟ اصل یہ سوال پھر آجاتا ہے۔تو قرآن کریم نے سینکڑوں جگہ زندگی کے مختلف پہلوؤں کی روحانی اور اخلاقی کامیابیوں کا ذکر کر کے قرآن کریم کو ہدایت کہا۔وہ تو بیان نہیں ہو سکتیں ایک خطبہ میں نہیں ہوسکتیں۔میرے خیال میں ایک زندگی میں بھی بیان ہو نا مشکل ہے۔مگر بہر حال بنیادی چیز یہ ہے کہ مقصد حیات ایک ہے ہمارا۔ہمیں کیوں پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے۔مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الدريت : ۵۷) اس لئے پیدا کیا کہ ہم اس کے عبد بنیں۔اس کا رنگ اپنی زندگی پہ چڑھائیں۔اس کے ہم رنگ ہوجائیں۔وہ پاک ہے۔پاکیزگی اس کے فضل سے ہماری زندگی میں پیدا ہو اور ایک ذاتی تعلق۔زندہ تعلق ، زندہ خدا کے