خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 112 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 112

خطبات ناصر جلد نهم ۱۱۲ خطبه جمعه ۲۲ مئی ۱۹۸۱ء صرف خدا سے مل سکتی ہے۔دُنیوی عزتیں بھی خدا سے مل سکتی ہیں۔دُنیوی وہ عزتیں جو خدا سے نہیں ملتیں وہ تو آنی جانی ہیں۔جتنی انسان نے انسان کو عزت دی اس سے زیادہ جوتیاں ماریں اور وہ عزت اس کی چھین لی۔ساری اپنی تاریخ دیکھو، دنیا کی تاریخ دیکھو قائم رہنے والی ، دائم رہنے والی وہ عزتیں نہیں ہیں۔قائم اور دائم رہنے والی وہ عزت ہے جو خدا سے ملتی ہے اور خاتمہ بالخیر ہوتا ہے اس عزت پر انسان کا۔جتنے یہاں ہمارے پاس شاہدین ہیں اس سے میرے خیال میں سوگنے سے بھی زیادہ ان سے زیادہ بہتر کام کرنے والے بغیر تنخواہ کے ساری دنیا میں احمدی احمدیت کے لئے قربانیاں دے کے کام کرنے والے ہیں۔خدا تعالیٰ کی نگاہ میں خدا تعالیٰ کے عاجز بندوں کی نگاہ میں ان کی عزتیں تم سے زیادہ ہوں گی۔اگر تم نے عزت حاصل کرنی ہے تو خدا سے حاصل کرو۔پھر وہ اپنے بندوں کے دلوں میں بھی یہ ڈالے گا کہ وہ تمہاری عزت کریں ورنہ نہیں۔بتا میں یہ رہا ہوں کہ اس لحاظ سے بھی باہر کے ملکوں نے مثلاً کینیڈا ہے اس میں ابھی ہمارا مبلغ نہیں گیا تھا تو ہزار، دو ہزار تین ہزار کی جماعت بن گئی تھی وہاں۔جس طرح بھی بنائی خدا نے بنادی۔پھر ان کے بچوں کی تربیت کے لئے کوئی آدمی پورے وقت کا چاہیے۔اب چار سال پہلے پہلی دفعہ وہاں مبلغ گیا اور ضرورت ان کی اس سے بھی زیادہ ہوگئی ہے اس لحاظ سے لیکن مثلاً کینیڈا میں جو مبلغ گیا اس نے اس قسم کی نالائقی کی دینی نقطۂ نگاہ سے کہ مجھے ۷۸ ء میں لنڈن اسے بلانا پڑا اور مجھے کہنا پڑا کہ تم یہاں ٹھہرو کچھ عرصہ اور استغفار کرو اور پھر مجھ سے وعدے کرو کہ اس قسم کی دینی معاملے میں نالائقیاں نہیں کرو گے جو تم کر چکے ہو ورنہ یہیں سے میں تمہیں بھیج دوں گا پاکستان۔خیر اس نے بہت وعدے کئے ایک سال اس کا وقت رہتا تھا وہ اس کو مل گیا۔یہ کہنا کہ جی ہم شاہد ہیں، جامعہ میں پڑھے ہوئے ہیں ہمیں شاہد کی جو سند ہے وہ ہمیں معزز بنادیتی ہے بالکل نہیں بناتی۔تمہارے اعمال تمہیں معزز بنا سکتے ہیں۔شاہد کی ڈگری نہیں معزز بنائے گی۔خدا سے عزت حاصل کرو اعمال صالحہ کے نتیجے میں، اپنی قربانیوں کے نتیجے میں، طارق دنیوی جرنیل تھے۔وہ جامعہ احمدیہ کے پڑھے ہوئے تو نہیں تھے ، نہ جامعہ ازہر کے تھے اور نہ