خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 70 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 70

خطبات ناصر جلد نهم خطبه جمعه ۱/۳ پریل ۱۹۸۱ء یہ معلوم ہو کہ ہر وہ حکم جو خدا تعالیٰ نے قرآن عظیم میں انسان کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت عطا کیا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کیا اور ہر وہ رفعت جو اس عمل کی وجہ سے جس کی بشارت اس عمل کی وجہ سے انسان کو دی گئی تھی وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عظیم قوت ، استعداد اور صلاحیت کے نتیجہ میں پائی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی نے ہدایت کی ان تمام راہوں کو اپنے عمل اور اپنے اُسوہ سے منور کیا جو راہیں خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کے پیار کی طرف لے جانے والی تھیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا انسان کی سب سے بڑی خوش قسمتی ہے۔جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کو چھوڑ کر اپنے لئے قرآن کریم میں ہدایت کی کوئی دیگر راہیں تلاش کرے اور ان پر عمل کرنا چاہے وہ بد بخت ہے اور خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کے پیار کو نہیں پاسکتا۔دوسری آیت جو میں نے ابھی پڑھی ، اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے بلی۔بلی کا تعلق اس مضمون سے ہے جو اس سے پہلی آیت میں بیان ہوا جو اس وقت میں چھوڑ رہا ہوں۔مَنْ أَوْفَى بِعَهْدِہ جو اپنے عہد کو وفا کرے اور عہد کے وفا کرنے کے نتیجہ میں وہ جہاں تک عہد کے وفا کرنے کا تعلق تھا۔متقی بن جائے۔وَاتَّقَی فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ اس کو یہ بشارت دی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ متقیوں سے پیار کرتا ہے۔انسان چھوٹے چھوٹے پیاروں کا بھوکا اور چھوٹی چھوٹی تو جہات کو اپنی طرف پھیرنے کے لئے ہر قسم کی حرکتیں کر جاتا ہے۔اچھی بھی ، بری بھی ، خوشامد بھی کرتا ہے، پیر بھی پڑ جاتا ہے۔انسان نے پتہ نہیں کیا کچھ شیطان سے سیکھا اور اس پر عمل کیا۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عہد نباہنے کا اُسوہ قائم کیا دنیا میں ہمارے لئے وہ اُسوہ ہے،اس پر عمل کرنا چاہیے۔صلح حدیبیہ کے بعد کچھ لوگ اپنے ان علاقوں کو چھوڑ کے جنہیں ان کو چھوڑ نا نہیں چاہیے تھا مدینہ آگئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو درست ہے کہ جہاں تم بستے ہو وہاں ایک مسلمان کی حیثیت سے تمہیں بڑی تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں گی لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ میں نے جو عہد کیا ہے وہ پورا ہونا چاہیے۔میں نے یہ عہد کیا تھا کہ تم جیسے لوگوں کو مدینہ میں پناہ