خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 41 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 41

خطبات ناصر جلد نهم ۴۱ خطبه جمعه ۶ / مارچ ۱۹۸۱ء مجمع جس نے مجھے اس بچے کو پیار کرتے دیکھا خوشی کی ایک ایسی لہر فضا میں پیدا ہوئی کہ میرے کانوں نے ان کی خوشی کی آواز کو سنا۔میری آنکھوں نے ان کے چہروں کو دیکھا جن پر خوشیاں مچل رہی تھیں۔ایک دورے سے واپسی پر لنڈن کے ائر پورٹ پہ ایک افریقن ملک کے وزیر آئے ہوئے تھے جو واپس جارہے تھے۔وہ بھی انتظار کر رہے تھے اپنے جہاز کا۔ان کے ساتھ ان کے ملک کا سفیر تھا جو انہیں چھوڑنے آیا ہوا تھا اور ایک سفیر کا بیٹا تھا۔کوئی بارہ سال کا ہوگا ہمارے دوست جو وہاں موجود تھے ان کو خیال آیا ایک کو ، پھر اور وں کو کہ نوٹ لے آئے کہ اس پر دستخط کر دیں ہم رکھیں گے اپنے پاس اس نے دیکھا وہ بھی لے آیا۔خیر میں نے دستخط کر کے اس کو دیا لیکن اس کے علاوہ میں کھڑا ہوا اور میں نے اس سے معانقہ کیا اس بچہ کو پیار کیا جب یہ اعلان ہوا کہ جہاز تیار ہے آجائیں اس جہاز کے مسافر جو وزیر تھے وہ میرے پاس پھر آگئے ( پہلے مل کے جاچکے تھے ) اور اس بات کا شکریہ ادا کرنے کے لئے آئے کہ آپ نے ہمارے بچے کو پیار کیا اور اتنے جذباتی تھے کہ ان کے ہونٹ پھڑ پھڑا رہے تھے اور آواز نہیں نکل رہی تھی تو دنیا نے قرآن کریم کی تعلیم پر عمل نہ کر کے بڑے دکھ اٹھائے ہیں۔یہ جماعت احمدیہ کا فرض ہے کہ دنیا کو ان دکھوں سے نجات دلانے کی کوشش کرے اور جماعت احمدیہ کا فرض ہے کہ اپنی زندگی میں ، اجتماعی زندگی میں کسی کو دکھ نہ پہنچائے بلکہ جس طرح بنیان مرصوص ہوتی ہے ہر شخص اپنی جگہ کام کر رہا ہے، دعائیں کر رہا ہے، خدا تعالیٰ کے حضور جھکا ہوا ہے، خدا سے اس کی برکتیں حاصل کر رہا ہے اور اس کا تعلق اپنے بھائی کے ساتھ محبت کا ہے اور پیار کا ہے جہاں موقع کسی کو ملتا ہے خدا کو خوش کرنے کے لئے اپنے اخلاق کے حسن کے جلوے اس کو دکھاتا ہے۔ایک ایسا معاشرہ پیدا کرو جو آج کی دنیا کے لئے مثالی معاشرہ بن جائے اور دنیا مجبور ہو جائے اس کو دیکھ کے اسلام کی طرف آنے پر۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے مقام کو سمجھنے اور قرآن کریم کی عظمتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا کرے۔آمین روزنامه الفضل ربوه ۲۸ / مارچ ۱۹۸۱ء صفحه ۳ تا ۵ )