خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 497 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 497

خطبات ناصر جلد نهم ۴۹۷ خطبه جمعه ۱۴ رمئی ۱۹۸۲ء پہنچتا ہے اور وہ یہ کہ غذائیت پر خود ان لوگوں نے جو ریسرچ کی تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ غذا ئیں انسان کے اخلاق پر اثر انداز ہوتی ہیں۔سور کا گوشت یا اس کی چربی کھانے سے بداخلاقی پیدا ہوتی ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ صرف سور کا گوشت اور اس کی چربی کھانے سے بداخلاقی پیدا ہوتی ہے کیونکہ یورپ میں اور اسلام سے باہر دوسری اقوام میں ایسی قومیں بھی ہیں جو سور کا گوشت اور چربی نہیں کھاتیں اور بداخلاقی میں شاید دوسروں سے بھی بڑھی ہوئی ہیں اور وجوہات بیچ میں آتی ہیں ہزار ہا ایسی چیزیں ہیں جن سے بچنے کی کوشش انسان کو کرنی چاہیے وہ نہیں بچتے۔تو جسمانی طاقت کی نشوونما کے لئے خدا تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرنا ضروری ہے ورنہ جسمانی طاقتوں کے استعمال میں غلطیاں سرزد ہو جائیں گی۔خدا تعالیٰ نے یہ ایک بہت بڑا نظام قائم کیا ہے۔ایک دوسرے کے ساتھ اس کا ملاپ ہے اور بڑاز بر دست ملاپ ہے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو اخلاقی طاقتیں بھی دیں۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ اعلان کیا کہ انسان کو جو اخلاقی صلاحیتیں دی گئیں، ان کا تعلق ہر دوسرے انسان کے ساتھ ہے۔رَحْمَةٌ لِلْعَلَمينَ ہمارے لئے یہ پیغام الہی لے کر آئے۔پس انسان کو جو اخلاقی طاقت دی گئی ، اس کا استعمال رَحْمَةً لِلْلعلمین کے نقش قدم پر چلنے کے ساتھ ہونا چاہیے یعنی کسی میں امتیاز نہ کیا جائے۔مسلم و کافر میں امتیاز نہ کیا جائے مثلاً ہر ایک کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آیا جائے۔مثلاً سینکڑوں اخلاقی باتیں بیان کی گئی ہیں۔ایک دو مثالیں دوں گا۔مثلاً یہ نہیں کہا کہ صرف مسلمان پر افتر مسلمان نہ کرے۔یہ کہا ہے کسی انسان پر بھی افترا نہیں کرنا۔کسی پر تہمت نہیں لگانی۔خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم کوئی امتیاز اور فرق نہیں ہے۔پس جو اخلاقی طاقتیں ہیں، ان کا جو استعمال ہے ان کا جو مظاہرہ ہے وہ ایک نمونہ ہے ہمارے سامنے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا۔اس نمونہ کے مطابق ہماری طاقتوں کا مظاہرہ ہونا چاہیے یعنی مسلم و کافر کے درمیان کوئی امتیاز کئے بغیر ہم ہر ایک کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والے اور ہر ایک کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنے والے ہوں۔وَجَاهِدُوا اپنے نفسوں کی تربیت کے لئے انتہائی کوشش کرو۔وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ۔اس آیت میں آیا ہے یعنی ایسی کوشش کہ جس کو خدا تعالیٰ کی نگاہ بھی صحیح اور حقیقی کوشش سمجھے۔