خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page v
||| بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحَ الْمَوْعُودِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ میں لفظ سیدنا حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے فرمودہ خطبات جمعہ کی نویں جلد پیش خدمت ہے۔یہ جلد ۱۹۸۱ ء اور ۱۹۸۲ء کے فرمودہ ۶۱ خطبات جمعہ پر مشتمل ہے جن میں ۱۹۸۱ء کے اٹھارہ اور ۱۹۸۲ ء کے چار غیر مطبوعہ خطبات بھی شامل ہیں۔جن مقدس وجودوں کو خدائے قا در مقام خلافت پر فائز کرنے کے لئے منتخب فرماتا ہے انہیں اپنی غیر معمولی تائید و نصرت سے نوازتا ہے۔ان کی زبانِ مبارک سے حقائق و معارف اور دقائق و لطائف کے دریا بہا دیتا ہے۔اس جلد میں مندرجہ ذیل خطبات جماعتی نقطہ نگاہ سے خاص اہمیت کے حامل ہیں۔۱۔۲ جنوری ۱۹۸۱ء کے خطبہ جمعہ میں حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے فارسی زبان کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا۔” فارسی کی طرف بھی ہمیں زیادہ توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ بعض لوگوں کی رؤیا سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان علاقوں میں سے جن علاقوں میں پشتو اور فارسی بولی جاتی ہے، فارسی بولنے والے علاقوں میں احمدیت جلد پھیلے گی۔خدا کرے کہ جو تعبیر ہمارے ذہن میں آئی ہے وہ پوری ہو اور جس وقت ان میں احمدیت پھیلے گی تو فارسی کتب کا وہ مطالبہ کریں گے۔اس کے لئے جماعت کو ابھی سے تیاری کرنی چاہیے مگر یہ کام وقف جدید کا اتنا نہیں جتنا