خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 474
خطبات ناصر جلد نهم ۴۷۴ خطبه جمعه ۱/۲۳ پریل ۱۹۸۲ء زندگی میں نظر آتے ہیں ان اخلاق کے حسن اور نور سے منور اور خوبصورت بنا لینا اپنے نفس اور روح کو ، یہ اسلام ہے اور اس کے بغیر نہ خدا تعالیٰ کا پیار آپ حاصل کر سکتے ہیں، نہ حقوق الانسان آپ ادا کر سکتے ہیں۔یہ رحمت جو ہے مثلاً یہ بزدل نہیں یعنی بزدلی کے سرچشمے سے نہیں نکلتی۔جس وقت اسلام کے دشمنوں نے اپنی حماقت کے نتیجے میں، اپنے جتھے کے گھمنڈ میں ، اپنی اچھی تلواروں کو دیکھتے ہوئے سمجھا تھا کہ ہم Root Force تھے ، اس مادی طاقت کے ساتھ اسلام کو مٹادیں گے ، اس وقت کمزور ، نہتے Under Nourished ، جن کو کھانے کو بھی پورانہیں ملتا تھا اور جسمانی لحاظ سے کمزور تھے ان کے وجود سے اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ دکھایا کہ مخالفین اسلام اپنے ان منصوبوں میں کامیاب نہیں ہو سکتے جیسا کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا لیکن جس وقت یہی رؤسائے مکہ اپنی تمام طاقتوں کے باوجود اور اپنے جتھے کے ہوتے ہوئے بھی اس حالت میں پہنچے کہ ان کے دماغ نے یہ فیصلہ کیا کہ آج ہم اسلام کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور اس لئے تلوار کو میان سے نکالنالا یعنی ہے، بے فائدہ ہے اور جس وقت انہوں نے اس حقیقت کو پہچانا کہ ہم نے اپنے وقت میں انتہائی مظالم ڈھائے مسلمان پر اور اس قدر اذیتیں پہنچا ئیں کہ ان کا شمار نہیں، آج جو بھی ہم سے سلوک کریں حق بجانب ہوں گے۔اس طاقت کے وقت اور اس فتح کے زمانہ میں یہ اعلان لا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (یوسف: ۹۳) تم سب کو معاف کر دیا۔اُحد کے موقع پر یہ اعلان نہیں ہوسکتا تھا یعنی اگر اعلان ہوتا تو اس کی عظمت کو اور اس کے حسن کو دنیا نہ پہچانتی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا محض یہ اعلان کافی نہیں تھا۔عظمت یہ ہے کہ آپ نے کہا میں معاف کرتا ہوں اور اپنے خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ بھی تمہیں معاف کر دے۔یہ حسن اخلاق کا ایک مظاہرہ ہے۔ہر شخص سے ہر قوم سے، دنیا کے ہر خطے سے اسلام نے پیار کیا اور حسنِ اخلاق سے ان کے دل خدا اور اس کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتے۔محض نمازیں پڑھ لینا، محض درود بھیجنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر محض ورد کرنا ظاہری چیز ہے۔ہم نہیں جانتے وہ قبول ہوتی بھی ہے یا نہیں ہوتی۔ہم نہیں جانتے کہ اس کا نتیجہ نکلتا بھی ہے یا نہیں نکلتا اور اگر نتیجہ نکل آئے تو سوائے اس کے کہ اچھے اخلاق پیدا ہو جا ئیں اور کوئی شکل