خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 462
خطبات ناصر جلد نهم ۴۶۲ خطبه جمعه ۹ را پریل ۱۹۸۲ء اب ان میں سے بعض افریقہ میں احمدی بھی ہو گئے۔دو تین سال ہوئے یہاں امریکنز کا جو وفد آیا تھا ان میں سے ایک عورت نے مجھے خط لکھا کہ میری گھر یلو Problems ( پرابلمز ) ہیں۔میں علیحدہ بھی کوئی بات کرنا چاہتی ہوں۔میں نے منصورہ بیگم کے ذریعہ (اس جلسہ پر نہیں، وہ زندہ تھیں پچھلے جلسہ یا اس سے بھی پچھلے جلسہ سالانہ پر ) اس کو کہلا بھیجا کہ اگر مجھے وقت ملا جلسہ کے دنوں میں تو ملوں گا ورنہ مجھے لکھ کے دے دے۔اس نے لکھ کے دیا کہ میری Problem یہ ہے کہ میں احمدی ہوگئی۔میرا خاوند بھی احمدی ہوا۔ہم نے آپس میں شادی کر لی اور شائد لکھا کہ بچہ بھی پیدا ہو گیا۔اس کے خاوند) کی ماں نے پہلے بتایا ہی نہیں کہ میں کیا بے ہودہ حرکت کر چکی ہوں۔شادی ہونے کے بعد ایک دن ماں نے بلا یا اور کہنے لگی تو اپنے باپ کا تو بیٹا ہی نہیں۔میں نے تو کسی اور کے ساتھ بدمعاشی کی تھی تو رحم میں پڑ گیا تھا۔وہ عورت کہے وہ تو یہ سن کر پاگل ہوا ہوا ہے۔تو اسلام کیا حل کرتا ہے اس مسئلہ کا ؟ وہ تو جا چکی تھی۔خط پڑھنے کا وقت نہیں ملا۔میں نے بعد میں پڑھا۔ان کے نیشنل امیر یہاں تھے۔میں نے کہا اسلام اس کا حل یہ کرتا ہے کہ جو گناہ گار ہے اسے سزاملنی چاہیے اور جو معصوم ہے اس کے حقوق کی حفاظت کرنی چاہیے۔وہ جو بچہ ہے اس کا کیا گناہ ہے یعنی جو بچہ گناہ کی پیداوار ہے وہ بچہ گناہ گار نہیں اسلام کے نزدیک ماں باپ گناہ گار ہیں اس بچے کے حقوق کی حفاظت کرو۔میں نے تو ان کو یہ بھی نہیں بتایا تھا کہ کسی نے مجھے خط لکھا ہے اور اس لئے آپ سے بات کر رہا ہوں۔ہر ایک کی عزت ہوتی ہے۔کہیں سے اس کو تلاش کرلیتے۔میں نے انہیں کہا کہ آپ کا معاشرہ ایسا ہے۔آپ کے پاس کئی ایسے Cases آجائیں گے کہ جن پر یہ حال گزرا ہوگا۔اس لئے میں آپ کو اسلام کی تعلیم بتا دیتا ہوں۔اس تعلیم کے مطابق آپ فیصلہ کیا کریں۔وہ میری بات سنتے رہے جب میں چپ کیا تو کہنے لگے۔آپ کہتے ہیں ایسے معاملات ہمارے سامنے آجائیں گے۔ایسے معاملات ہمارے سامنے آچکے ہیں۔کئی Cases ان کے سامنے آچکے ہوئے تھے۔