خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 457 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 457

خطبات ناصر جلد نهم ۴۵۷ خطبه جمعه ۹ را پریل ۱۹۸۲ء لوگوں ہی کو فوقیت حاصل ہے اور دنیوی لحاظ سے جو زیخوں میں پرورش پانے والے ہیں ان کو فوقیت نہیں ذلت حاصل ہے اور وہ یہ بھی جان لیں گے۔وَاللهُ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابِ کہ اللہ تعالیٰ جس کو پسند کر لیتا ہے اس کی نیکی کی وجہ سے، اس کے ثبات قدم کی وجہ سے، اس کی وفا کی وجہ سے، جو محبت اس کے دل میں اپنے ربّ کریم سے ہے اس کے نتیجہ میں جو عشق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے سینے میں موجزن ہے اس کے نتیجہ میں جسے وہ پسند کرتا ہے بغیر حساب دیتا ہے۔اس میں یہ بھی بتایا کہ جو دنیوی زینتیں ہیں یا دولتیں ہیں یا اولا د ہے اور اس کے نتیجہ میں اثر اور رسوخ ہے، وہ محدود ہے بغیر حساب نہیں۔ایک بڑے سے بڑا دولت مند بھی کچھ اور مانگتا ہے کچھ اور چاہتا ہے اور چونکہ شیطان کی پیروی کرنے والا ہے۔وہ یہ نہیں دیکھتا کہ جس ذریعہ سے میں حاصل کر رہا ہوں وہ جائز بھی ہے یا ناجائز۔یہاں کہا ہے زین یعنی زندگی خوبصورت کر کے دکھائی گئی۔کون دکھاتا ہے یہ کئی جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔وَ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَنُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الانعام : ۴۴) کہ یہ لوگ جو خدا تعالیٰ کو بھول کے ، اس کے احکام کے خلاف اعمال کرتے اور خدا تعالیٰ کی دی ہوئی طاقتوں کا غلط استعمال کرتے اور خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا غلط خرچ کرتے ہیں یہ اعمال ان کو شیطان خوبصورت کر کے دکھاتا ہے۔اس آیت میں تو یہ کہا گیا ہے کہ خوبصورت کر کے دکھائی جاتی ہے۔دوسری میں کہا شیطان ہے خوبصورت کر کے دکھانے والا۔دوسری طرف شیطان کے مقابلہ میں اللہ ہے جو انسان کے دل میں اپنا نور بھرتا اور تقویٰ کی راہوں کو اس پر منور کرتا اور اسے توفیق دیتا ہے کہ وہ تقویٰ کے مقام پر کھڑا ہو۔پھر اس کی دعاؤں اور اس کے اعمال صالحہ کو قبول کرتا اور تول کے نہیں دیتا کہ تو نے دس روپے دیئے دس روپے جزا لو۔وہ دینے والا تو اپنے عمل کے لحاظ سے بھی ، اپنی سوچ کے لحاظ سے بھی ، اپنے علم کے لحاظ سے بھی ، اپنے ایمان کے لحاظ سے بھی اپنی استعداد سے باہر نہیں جا سکتا لیکن اللہ تعالی کی تو کوئی حد بست کر ہی نہیں سکتا۔دینے والا اپنے مقام کے لحاظ سے غیر محدود