خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 456
خطبات ناصر جلد نهم ۴۵۶ خطبه جمعه ۹ را پریل ۱۹۸۲ء ہیں اور انسان کے ساتھ شیطان کو بھی لگا دیا اور فرشتوں کو بھی۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جب انسان اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لئے اپنی طاقتوں کو شیطانی وسوسوں یا اس کے دل میں جو خیالات پیدا کرتا ہے یا طاغوتی طاقتیں انسان کو اس طرف لے جاتی ہیں کھینچ کر۔اس حالت میں جب وہ ذمہ داری ادا کر رہا ہوتا ہے تو وہ قرآن کریم کی اصطلاح میں اہوائے نفس یا شہوات نفسانی کی پیروی کرتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے طاقت تو دی تھی اور ذمہ داری بھی ڈالی تھی لیکن ذمہ داری کی ادائیگی ویسی نہیں جسے خدا چاہتا ہے بلکہ ویسی اس رنگ میں کی گئی جسے شیطان چاہتا ہے۔یہ جو شہوات نفس، شیطانی دباؤ کے نیچے غلط راستوں پر چل کر انسان کی زندگی کو ہلاکت کی طرف لے جانے والی ہیں ، اسے دین کہا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ اتَّقَوا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَاللهُ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابِ (البقرۃ : ۲۱۳) ایک تو وہ گروہ ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا۔اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقتوں کی ناشکری کی۔جو نعماء دی گئی ہیں ان میں تصرف اس رنگ میں کیا جو خدا تعالیٰ کو پسند نہیں۔اور اسے انہوں نے زینت سمجھا۔یہ چیزان کو خوبصورت کر کے دکھائی گئی اور اس قسم کا تکبیر ان کے اندر پیدا ہوا اس دنیوی زینت یا دنیوی زمینوں کے حصول کے نتیجہ میں کہ انہوں نے ان لوگوں سے جنہوں نے عرفانِ ذات وصفات باری تعالیٰ حاصل کیا اور ایمان لائے اللہ پر اور اس کے کلام پر ان سے وہ تمسخر اور استہزاء کرتے ہیں اور اپنے آپ کو کچھ سمجھتے ہیں اور مومنوں کو جو خدا کے احکام کی پیروی کرتے ہوئے اپنی طاقتوں کا اس دنیا میں استعمال کر رہے ہیں۔ان کے نزدیک وہ حقیر ہیں اور تمسخر کی جگہ ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور ایمان ان کا صحیح ہے وہ مُؤْمِنُونَ حَقًّا ہیں اور انہوں نے خدا تعالیٰ کو اپنی ڈھال بنایا ہے اور تقویٰ کے مقام پر انہوں نے اپنے آپ کو کھڑا کیا ہے۔فَوقَهُمْ يَوْمَ الْقِيِّمَةِ قیامت کے دن یہ تمسخر کرنے والے جان لیں گے کہ ان