خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 453
خطبات ناصر جلد نهم ۴۵۳ خطبہ جمعہ ۱/۲ پریل ۱۹۸۲ء یہ کہ رہا ہوں آپ کو کہ انسانی عقل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے جو عظیم صلاحیتیں دیں ان کی وسعتوں کا تخیل بھی نہیں کر سکتی، اپنے تصور میں بھی نہیں لا سکتی ، یہ اپنی جگہ ٹھیک لیکن اس چیز دورود میں برابری ہوگئی کہ جس کو جو ملا اس کو کمال تک پہنچایا۔قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم شرف انسانی جو ہے اس کو بڑے حسین رنگ میں قائم کر دیا۔ہر انسان شریف ہے فطرتاً اپنی طاقتوں اور صلاحیتوں کے لحاظ سے۔اس کا فرض ہے کہ ان کی نشو و نما کرے اور ہر دوسرے انسان کا فرض ہے کہ خدا تعالیٰ کے اس بندے کا احترام کرے جو اس گروہ میں شامل ہے جس کے متعلق کہا گیا تھا۔مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الدريت : ( ۵ ) میں نے اپنی جو صفات ہیں ان کا رنگ تمہاری طبیعت پر چڑھانے کے لئے تمہیں پیدا کیا۔جس وجود کو اس لئے پیدا کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا رنگ اس پر چڑھے وہ معزز ہے، وہ قابلِ احترام ہے۔اگر وہ غلطی کرتا ہے انسان کا کام نہیں ہے یہ فیصلہ کرنا کہ اس نے کیا غلطی کی کتنی کی اور کیا سزا اس کو ملنی چاہیے؟ انسان کو حکم ہے ہر دوسرے انسان کی عزت کر۔انسان کو بشارت ہے کہ تیری فطرت میں جو یہ رکھا تھا کہ تیری عزت اور احترام کو قائم کیا جائے اس کے لئے ہم نے سامان پیدا کر دیئے۔قرآن کریم نازل ہو گیا۔قرآن کریم کے احکام پر عمل کرو گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے لگ جاؤ گے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلو گے اس مقام پر پہنچ جاؤ گے کہ اِنْ اتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى 79 ائی (یونس: ۱۶) جب اس مقام تک پہنچ جاؤ گے يُحْبِبْكُمُ اللہ اللہ تم سے پیار کرنے لگ جائے گا۔اس وقت دنیا میں فساد کی بڑی وجہ یہ بنی ہوئی ہے کہ انسان انسان سے پیار کرنا بھول گیا ہے اور جماعت احمدیہ کے قیام کی ایک ہی غرض ہے کہ انسان کو یہ سبق یاد دلا کر کہ انسان انسان سے پیار کرنے ، اس کا احترام کرنے ، اس کے شرف کو قائم رکھنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے، دنیا سے فساد مٹاکر نوع انسانی کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹھنڈے سائے تلے جمع کر دے۔اللہ تعالیٰ ہم کو ان حقائق کے سمجھنے کی توفیق عطا کرے اور انسان پر خدا تعالیٰ رحم کرے اور ایسے سامان پیدا کرے کہ جس گند میں آج انسانیت دھنسی ہوئی ہے اس میں سے وہ نکل آئیں اور