خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 435
خطبات ناصر جلد نهم ۴۳۵ خطبه جمعه ۱۹ / مارچ ۱۹۸۲ء قرآن کریم غیر محد و دعلوم کا سر چشمہ ہے خطبه جمعه فرموده ۱۹ / مارچ ۱۹۸۲ء بمقام مسجد احمدیہ۔اسلام آباد تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔سورۃ الربّ مر میں ہے۔آمَنْ هُوَ قَانِتٌ أَنَاءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَقَابِمَا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَ يَرْجُوا رَحْمَةَ رَبِّهِ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَرُ أُولُوا الْأَلْبَابِ - b ط ( الزمر : ١٠) یہاں هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُوا الْأَلْبَابِ اس چھوٹے سے ٹکڑے میں آیت کا مضمون یہ بیان ہوا ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایک تو عقل عطا کی اور ایک لب عطا کی۔عقل عام ہے ہر کس و ناکس میں کچھ نہ کچھ تو عقل پائی جاتی ہے۔جو د ہر یہ بھی ہیں وہ بھی بعض پہلوؤں سے بڑے عقل مند ہیں۔جو بت پرست ہیں وہ بھی عقل رکھتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی کب نہیں رکھتا۔اس کے معنی مفردات راغب میں یہ کئے گئے ہیں۔اَللُّبُ الْعَقْلُ الْخَالِصُ مِنَ الشَّوائِبِ وَسُتِى بِذلِكَ لِكَوْنِهِ خَالِصَ مَا فِي الْإِنْسَانِ مِن معانِيْهِ وَ قِيْلَ هُوَ مَا زَكَى مِنَ الْعَقْلِ فَكُلُّ لُبٍ عَقْل وَلَيْسَ كُلٌّ عَقْلٍ لُنَّا وَلِهَذَا