خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 423
خطبات ناصر جلد نهم ۴۲۳ خطبہ جمعہ ۱۲ / مارچ ۱۹۸۲ء کھیل اور ورزش کے متعلق اسلام کا فلسفہ خطبه جمعه فرموده ۱۲ / مارچ ۱۹۸۲ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔آج سے باسکٹ بال ٹورنامنٹ شروع ہو گیا ہے۔اس لئے میں جو کھیل اور ورزش کے متعلق اسلام کا فلسفہ ہے اس پر کچھ کہنا چاہتا ہوں۔کھیلیں محض کھیلیں نہیں اور کھیل اور کھیل میں بھی فرق ہے۔بعض لوگ وہ بھی ہیں جو کھیلتے ہیں صرف ورزش کرنے کے لئے اور ورزش میں جو ایک لذت بھی ہے اسے اٹھانے کے لئے۔بعض لوگ کھیلتے ہیں پیسے بنانے کے لئے۔مثلاً ٹینس کے جو بین الاقوامی مقابلے ہوتے ہیں ان میں بعض دفعہ فسٹ آنے والے کو چھ لاکھ روپیہ، آٹھ لاکھ روپیہ مل جاتا ہے۔سیکنڈ آنے والے کو بھی کافی روپے ملتے ہیں۔جو باکسنگ ہے ملکہ بازی ان میں جو دنیا میں اوپر نکلے ان کو اس سے بھی کہیں زیادہ پیسے مل جاتے ہیں۔ان کی کھیل کھیل کے لئے نہیں بلکہ ان کی زندگی کھیل کے لئے ہے یعنی وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری زندگی کا مقصد یہ ہے کہ ہم کھیلیں اور پیسے بنا ئیں۔بعض کھیلیں ہیں جو اپنے ملک کے شہریوں کو خوشی پہنچانے کے لئے کھیلی جاتی ہیں ، بڑی مقبول ہیں مثلاً Rugby ( رنگی ) ہے وہ انگلستان میں ، ساؤتھ امریکہ کے بہت سارے ملکوں اور اب کچھ حد تک