خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 362 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 362

خطبات ناصر جلد نهم ۳۶۲ خطبہ جمعہ ۱۱/ دسمبر ۱۹۸۱ء میں انتظام کیا۔میں دیوالیہ تو نہیں بن گیا۔خدا تعالیٰ اپنے فضلوں سے سارے انتظام کرتا ہے وہ ہو گیا لیکن میں بتا رہا ہوں شرم آتی تھی۔کرسیاں کوئی نہیں، پرانی در یاں۔ہمارے پاس اس وقت آہستہ آہستہ توفیق بڑھتی چلی گئی۔اس وقت یہی توفیق تھی۔تیرہ سو آدمی ، ان کو بٹھانا مشکل۔ایک ایک ضلع کی جماعت بعض دفعہ دو دو حصوں میں بٹ کے مجھ سے ملاقات کرتی تھی اور میرے او پر بھی اس کا بوجھ تھا کیونکہ میری ملاقات کا مطلب تھا کہ کوئی اور نہ بولے خاموش رہیں صبح سے۔میں ذیا بیطس کا بیمار ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو بعض دفعہ اس طرح بھی بیان کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ یہ معاہدہ کیا ہوا ہے کہ جب ملاقات کے دن ڈاکٹروں کے مشورے کے خلاف، صبح کے ناشتے کے بعد دوائی کھا کے ذیا بیطس کی (جس کے بعد بھوکا نہیں رہنا چاہیے۔بڑی خرابی پیدا کرتی ہے وہ ) پانچ بجے بعض دفعہ میں کھانا کھاتا تھا دو پہر کا اور میری عادت یہ ہے کہ دو کھانوں کے درمیان میں کچھ کھاتا ہی نہیں، بعض دفعہ پانی بھی نہیں پیتا تھا۔تو پانچ بجے تک پوری طاقت کے ساتھ ، میں ان سے ملاقات کرتا تھا۔پھر اپنا کھا لیا الحمد للہ۔خدا تعالیٰ کا نشان ہر ملاقات کے دن مجھے یہ ملتا تھا۔عام دنوں میں مجھے ضعف ہو جاتا تھا ایک بجے۔ملاقات کے دن نہیں ہوتا تھا ضعف۔یہ نہیں کہ میں کوئی تکلیف آپ لوگوں کے لئے برداشت کر رہا تھا۔قطعاً کوئی تکلیف نہیں کیونکہ تکلیف تو میں تب برداشت کرتا جب ملاقات کے دن مجھے ضعف ہوجاتا ، نہیں ہوتا تھا۔خدا نے ایسا انتظام کیا ہوا تھا میرے جسم میں بہر حال اب وہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ وہ بھی ایک چیز آرہی ہے اس جلسے تک تو نہیں ہوں گے تیارلیکن میں ایسا انتظام کر رہا ہوں کہ جو ابھی تیار کمرے نہیں ہیں ، ملاقات ان میں ہو جائے کیونکہ پچھلے سال کے جلسے پر ہمارے مہمانوں کو بڑی تکلیف ہوئی شامیانے کے نیچے سردی کے دنوں میں۔دوست دعا کریں کہ یہ دونوں عمارتیں جو رہائشی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ بہت برکت ڈالے۔جتنی میری زندگی ہے میری زندگی میں بھی مجھے آرام پہنچا ئیں اور آنے والے خلفاء کی زندگی میں بھی برکتوں سے کمرے جو ہیں اور دیوار میں جو ہیں اور ماحول جو ہے وہ بھرا ر ہے اور مہمان جب آئیں ان برکتوں سے حصہ لینے والے ہوں۔وہ تو اگلے سال پورا ہو جائے گا لیکن اس سال ایک