خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 356 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 356

خطبات ناصر جلد نهم ۳۵۶ خطبہ جمعہ اار دسمبر ۱۹۸۱ء ہے جب انسان یہ محسوس کرے کہ جو سب سے زیادہ طاقت ور ہے اللہ ہمارا، وہ ہماری مدد کے لئے ہمارے پاس کھڑا ہے اور دشمن ہمیں ایذا تو پہنچا سکتا ہے کچھ خوف کے حالات تو پیدا کر سکتا ہے لیکن اپنے منصو بہ میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بھوک سے بھی تمہاری آزمائش کی جائے گی۔جو صنعت و تجارت سے خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت اُس کی کم حاصل کرو گے اس میں کمی اموال تمہارے پاس ہوں گے، ان تجارتوں میں گھاٹا ، صنعتی جو تمہارے منصوبے ہیں ان میں نقصان ہو گا اور ہم تمہاری آزمائش کریں گے۔تمہاری جان لے کر بھی تمہاری آزمائش کریں گے یعنی جان لے کر آزمائش تو اس کی ہے جس کی جان نہیں لی گئی۔یعنی تمہاروں کی جان لوں گا میں اور تمہاری آزمائش کروں گا وہ تمام فدائی جو پہلے زمانہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے وقت اپنی جان نثاری کا ثبوت دے رہے تھے اور شہادت حاصل کر رہے تھے وہ تو جنتوں میں چلے جاتے تھے۔تکلیف اٹھانے والے، امتحان میں پڑنے والے تو وہ رہ جاتے تھے جو پیچھے زندہ چھوڑے جائیں۔اور پھلوں کا نقصان ہو گا۔باغات ہیں زراعت ہے، ثمرات کے لفظ میں صرف درخت کا پھل نہیں آتا بلکہ زمین کی پیداوار ساری کی ساری اس کے اندر آجاتی ہے۔تو تمام ذرائع آمد کا ذکر کیا ہے مختلف پہلوؤں سے، مختلف وقتوں میں مختلف شکلوں میں اللہ تعالیٰ نقصان کے ذریعے ان چیزوں میں ہماری آزمائش کرتا ہے۔دوسری بات جو اس آیت میں بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ مصیبتیں جو تم پر نازل ہوں گی، وہ ایک دوسری قسم کی مصیبت جو ہے ویسی نہیں ہوں گی۔قرآن کریم سے ہمیں پتہ چلتا ہے اور اس آیت میں بھی اس طرف اشارہ ہے کہ مصیبت دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک آزمائش وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے عذاب کی شکل میں آتی ہے اور ایک وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے امتحان کی شکل میں آتی ہے۔تو یہاں یہ فرمایا کہ یہ مصیبتیں عذاب نہیں، آزمائش ہیں۔جو مصیبتیں عذاب کی شکل میں ہوتی ہیں ان کا تعلق انذار اور اللہ تعالیٰ کے غضب کی جہنم سے ہے لیکن جو مصیبتیں آزمائش کے رنگ میں آتی ہیں ان کا تعلق بشارتوں اور خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتوں کے ساتھ ہے۔اس لئے یہاں یہ اعلان کیا گیا کہ یہ مصیبتیں جو تم پر آئیں گی یہ تمہاری