خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 355
خطبات ناصر جلد نهم ۳۵۵ خطبہ جمعہ ۱۱/ دسمبر ۱۹۸۱ء آزمائش اور امتحان کے بغیر تمہیں چھوڑا نہیں جائے گا خطبه جمعه فرموده ۱۱ دسمبر ۱۹۸۱ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ / تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اللہ تعالی سورۃ البقرہ میں فرماتا ہے:۔وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَ الْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصُّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ - أُولَبِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَبِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ - (البقرة : ۱۵۶ تا ۱۵۸) اللہ تعالیٰ نے اس جگہ ہمیں اس طرف توجہ دلائی کہ آزمائش کے بغیر ، امتحان کے بغیر تمہیں چھوڑا نہیں جائے گا۔جو دعاوی محبت اور پیار کے اور فدائیت اور ایثار کے تم کرو گے اس سلسلہ میں تمہاری آزمائش بھی کی جائے گی، تمہارا امتحان بھی لیا جائے گا۔کسی قدر خوف پیدا ہو گا بِشَیءٍ مِّنَ الْخَوفِ خوف کے حالات مختلف قسموں کے ہیں۔دو Extremes (ایکسٹریمز ) یعنی سب سے زیادہ خوف، سب سے کم خوف۔سب سے زیادہ خوف اس وقت ہوتا ہے جب انسان یہ دیکھے کہ دُنیوی طاقتیں اسے مٹارہی ہیں اور سب سے کم خوف نہ ہونے کے برابر اس وقت ہوتا