خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 21
خطبات ناصر جلد نهم ۲۱ خطبه جمعه ۳۰ / جنوری ۱۹۸۱ء کرو کہ تمہارے کان اسے سننے لگ جائیں۔تمہارے کان ، ہمسایہ کے کان نہیں ، اپنے گھر میں ساتھ کے کمرے میں سوئے ہوئے بچے کے کان نہیں تمہارے کان سننے لگ جائیں۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تم اونچی کیوں بولتے ہو رات کو دعا کرتے وقت۔شور نہیں مچار ہے تھے یعنی اونچا جو ان کے کان بھی سن رہے تھے اور ذرا اونچا ہوگا۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! میں قرآن کریم اور اس کے مطالب سے شیطان کو کوڑے مار رہا ہوں۔کچھ اس قسم کے الفاظ تھے۔آپ نے کہا، نہیں ، آہستہ آواز سے دعا کرو۔آہستہ آواز سے تلاوت کرو۔تمہارے کان سنیں کسی اور کے کانوں کو سنانے کی ضرورت نہیں۔شیطان کو ٹھیک کرنے کے قرآن کریم نے اور اسباب اور ذرائع بتائے ہیں۔میں اس حدیث کا ترجمہ نہیں کر رہا اس کا مطلب بیان کر رہا ہوں آپ کے سامنے۔تو کتنی عظمتوں والی ہے یہ کتاب کہ ساری دنیا کی رہنمائی کے لئے آئی۔ساری دنیا تک پہنچنا، دنیا کو ہلاکت سے بچانے کے لئے ضروری ہے اور کہا شور مچا کے ان کے کانوں تک نہیں پہنچنا۔پیار کے ساتھ ، آہستگی کے ساتھ ، رفق کے ساتھ جس کے معنی ہیں علی مکث رفق کے ساتھ ، نرمی کے ساتھ ، آسانی کے ساتھ، سہولت کے ساتھ۔ایک ایک حرف کو علیحدہ علیحدہ کر کے پڑھو تا کہ لفظ کے معنی اور قرآن کریم کی جو گہرائیاں ہیں وہ دوسرے کے دل میں اتریں۔صوتی کوڑا بھی ہے ایک۔ڈانٹ بھی تو ایک کوڑا ہے نا۔ایک دبکا مارتا ہے ایک جابر انسان تو اگلے آدمی کانپنے لگ جاتے ہیں۔قرآن کریم اس قسم کے دبکے لگانے کے لئے نہیں آیا۔قرآن کریم تو اس لئے آیا کہ اس نے اعلان کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کہ خدا اپنے بندوں سے پیار کرنا چاہتا ہے اور اپنے بندوں کو کہا جب اس پر ایمان لاتے کہ میرے پیار میں فانی ہوکر میرے پیار کے حصول کے لئے میرے پیارے بندوں کو ان راہوں کی طرف لاؤ جو میرے پیار کو حاصل کر سکیں گے اور میرے غصہ اور غضب اور قہر سے محفوظ ہوجائیں گے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کریم، میں نے بتایا نا اس کا دوسرا پہلو کہ قرآن کریم واقع میں شفاء للناس ہے۔قرآن کریم میں واقع میں یہ طاقت ہے کہ وہ دنیا کے مسائل آج کی نسلوں کے بھی اور آنے والی نسلوں کے بھی سلجھا سکتا ہے۔مسائل حل کر سکتا ہے۔ان کی پیچیدگیاں جوان